خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 284

خطبات ناصر جلد نهم ۲۸۴ خطبه جمعه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء وعظ کرتے تھے۔یہودیوں کا ایک علیحدہ علاقہ اور Gipsy ( جیسی ) جن کو آج بھی غیر مسلم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان کا جو تمدن اور ثقافت تھی اس کو نہیں چھیڑا۔وہ چاہتے تھے کہ Caves ( کیوز ) میں جو وہاں ان کو میسر آئی تھیں ان میں رہیں اور جب دل کرے خانہ بدوش بن کے ادھر اُدھر پھرتے رہیں۔حکم تھا تم جس طرح چاہتے ہو اپنی زندگی گزارو۔آج بھی وہ Caves ( کیوز ) میں ہیں لیکن آج وہ عزت اور احترام جو ایک مسلمان انہیں دیتا تھا۔اس عزت اور احترام سے وہ محروم ہیں اس مہذب دنیا میں ، اُس مہذب دنیا میں جو حقیقی معنی میں مہذب تھی وہ محروم نہیں تھے۔پھر مسلمانوں کے کوارٹرز تھے۔عیسائیوں کو گر جے بنانے کی اجازت تھی ، مسلمان کو گرجے گرانے کی اجازت نہیں تھی۔ہمارا گائیڈ کہنے لگا۔وہ جو سامنے آپ کو بہت بڑا گر جا نظر آتا ہے۔یہ مسجد تھی جسے گر جا بنایا گیا۔اس کے صحن میں ابھی وضو کرنے کے لئے جو انتظام ہوا کرتا تھا وہ موجود ہے۔بہر حال زمانہ کروٹ نہیں بدلتا انسان کا دل کروٹ بدلتا ہے اور دنیا بجھتی ہے کہ شاید زمانہ بدل گیا۔جب تک انسان خدا کا ہو کر خدا میں زندگی بسر کرتا رہے زمانہ جو کچھ بھی کرے گا اس کے حق میں کرے گا۔اور جب یہ تعلق ٹوٹ جائے اور انسان خدا کی بجائے شیطان کی گود میں اپنے آپ کو بٹھا دے، پھر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی توقع رکھے یہ حماقت ہے وہ تو نہیں اس کو مل سکتی۔رحمت تو تبھی ملے گی جب انسان سمجھے کہ جو کچھ ملا ، وہ خدا سے ملا ، جو کچھ مل سکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ہی مل سکتا ہے اور ہدایت کی اس روشنی کو اور نور کے اس جلوہ کو دیکھنے کے بعد پھر بہک جانا اور نور کی بجائے ظلمت میں آجانا اور صراط مستقیم کو چھوڑ کر کج رہی کو اختیار کر لینا۔اتنا بڑا ظلم ہے جو انسان اپنے پر کرتا جو انسانی نسلیں اپنے پر کرتی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کے لئے ہمیں یہ دعا سکھا دى رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا - اب ایک نیا دور شروع ہوا ہے عظمت اسلام کا۔مہدی آگئے اور جس صدی میں آنے کی بشارت دی گئی تھی وہ صدی اختتام پر ہے۔بہت سے لوگ اب اس صدی کے ان آخری دنوں میں کہہ رہے ہیں کہ ہم انتظار کر رہے ہیں پہلا دن جو پندرھویں صدی کا ہوگا اگر اس دن تک مہدی اور مسیح آسمان سے نہ آئے تو ہم بیعت کر لیں گے۔خدا معلوم وہ اس دن تک زندہ رہتے