خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 285 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 285

خطبات ناصر جلد نہم ۲۸۵ خطبه جمعه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء ہیں یا نہیں۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اُمت مسلمہ متحد ہو کر یہ اعلان کر چکی ہے کہ آنے والے نے جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا تھا لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف:۱۰) اس کے زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔اس کا زمانہ چودھویں صدی ہے، وہ چودھویں صدی آگئی۔نشان پورے ہو گئے۔چاند اور سورج نے گواہی دی اور سینکڑوں اور نشان ہیں۔ہمارے علماء کی تھیں پیشگوئیاں ، وحی کے ذریعہ، رویاء صادقہ کے ذریعہ زمانہ کی تعین کی گئی ہے کہ اتنے زمانہ بعد آئے گا قریباً پانچ سو سال پہلے کہا ۵۰۰ سال بعد آئے گا۔ایک بزرگ حج کرنے گئے۔خانہ کعبہ میں ان کو نیند آگئی وہاں انہوں نے عجیب خواب دیکھی۔انہوں نے دیکھا کہ ایک چار پائی ہے، اس پر ایک مریض پڑا ہوا ہے اور بہت سے معالج ، طبیب اطباء ، ڈاکٹر اس کے گرد ہیں اور وہ اس کا علاج کر رہے ہیں اور اس کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا اور ان کو خواب آیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی سے کوئی آٹھ دس سال پہلے کہ چند قدم کے فاصلہ پر ایک طبیب بیٹھے ہیں اور وہ اس کی طرف توجہ نہیں کر رہے بیمار کی طرف اور خواب میں ان کو بتایا گیا کہ اگر یہ طبیب توجہ کرے تو بیمار کو صحت ہوسکتی ہے۔لیکن وہ تو جہ نہیں کرتے ، وہ بڑے پریشان ہوئے۔واپس گئے ، ان کے ایک پیر تھے ، انہوں نے ان سے پوچھا خانہ کعبہ میں میں نے یہ خواب دیکھی ہے اور مجھے اس کی تعبیر نہیں معلوم اور میں پریشان ہوں۔میری طبیعت پر بڑا اثر ہے، مجھے تعبیر بتائیں، انہوں نے جواب دیا کہ جو تم نے مریض دیکھا ، وہ اسلام ہے اور اسلام کی حالت نا گفتہ بہ ہے اور جو تم نے دیکھا کہ بہت سے اطباء اس کے گرد منڈلا رہے ہیں اور علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ میرے تیرے جیسے طبیب ہیں۔اور جو تم نے دیکھا کہ چند قدم کے اوپر ایک شخص بیٹھا ہے۔ایک طبیب بڑا ماہر اور تمہیں بتایا گیا کہ یہ توجہ کرے تو اسے صحت ہو سکتی ہے وہ آنے والا مہدی ہے اور خواب میں تمہیں زمانہ، مکان کی شکل میں دکھایا گیا ہے اور چند سال میں وہ آجائے گا اور چند سال بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہوا۔ہزار ہا پیشگوئیاں ہیں، دلائل ہیں ، نشان ہیں، آیات ہیں، معجزات ہیں، جنہوں نے حضرت مہدی علیہ السلام کی صداقت کو ثابت کیا ہے، لیکن جنہوں نے نہیں مانا تھاوہ نہیں مانے اور چودھویں صدی