خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 273
خطبات ناصر جلد نهم ۲۷۳ خطبه جمعه ٫۲اکتوبر ۱۹۸۱ء اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا وہ میر امضمون نہیں۔تو ایک تو معرفت باری تعالیٰ میں بنیادی چیز ہمیں سکھائی گئی کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ ءٍ دوسری بنیادی چیز یہ سکھائی گئی کہ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنٰی ( الحشر : ۲۵ ) ساری اچھی صفات جو ہیں وہ اس کے اندر پائی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی تعلق رکھنے والی یا تیسری چیز یہ ہے کہ کوئی کمزوری یا نقص یا بے طاقتی اس کے اندر نہیں پائی جاتی۔اس کی طرف کسی قسم کے نقص کو اور کمزوری کو منسوب نہیں کیا جاسکتا۔یہ بنیادیں ہیں عرفانِ باری تعالیٰ حاصل کرنے کی۔پھر انسان اس کی صفات پر غور کرتا اور دعاؤں کے ذریعہ سے اس کے جلوے دیکھتا اور اپنی معرفت میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔بعد بڑا ہے۔انسان اور پیدا کرنے والے رب کے درمیان جو فاصلے ہیں وہ نہ ختم ہونے والے ہیں۔اس واسطے جو قرب میں ترقیات ہیں وہ بھی نہ ختم ہونے والی ہیں۔یہ تو معرفتِ باری تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک عقیدہ ہے تو حید پر قائم ہونے کے لئے۔دوسرے عملی تو حید ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) کہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے کرنے پر قادر ہے۔اس واسطے ہر چیز اس سے مانگو ، اس سے حاصل کرو اور کسی احتیاج کے وقت کسی غیر کا خیال بھی نہ لاؤ دل میں۔یہ عملا توحید کے ساتھ ایک فرد واحد کا اور قوموں کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔کوئی چیز کسی غیر سے مانگنی نہیں ، نہ حاصل کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ سامان پیدا کرتا ہے اور قرآن کریم نے مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ کی حکمت مختلف پیرایوں میں بیان کی ہے۔سب پر تو اس وقت بات نہیں کی جاسکتی۔پہلی بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ جوتو گل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً کیا اپنے رب پر ہمیں حکم ہے کہ آپ کی اتباع کریں۔قرآن کریم میں آیا ہے سورہ تو بہ میں۔( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یعنی وحی کے ذریعے خدا تعالیٰ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا اس کا اعلان کر دو ( حسبي الله میرے لئے اللہ کافی ہے۔لَا إِلَهَ إِلا هُوَ وه یکتا، واحد ہے اور کسی اور کے پاس مجھے جانے کی ضرورت نہیں۔اس لئے عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ اور