خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 268
خطبات ناصر جلد نهم ۲۶۸ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۱ء تمام اضلاع میں کام کرنے والے مربیوں اور معلموں کی یہ ذمہ داری لگا تا ہوں کہ وہ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ جاکے، جاتے رہ کر ایک دفعہ نہیں ، جاتے رہ کر ان کو تیار کریں کہ کوئی گاؤں یا قصبہ جو ہے یا شہر جو ہے وہ محروم نہ رہے نہ پنجاب میں، نہ سرحد میں ، نہ بلوچستان میں ، نہ سندھ میں اور اس کے متعلق مجھے پہلی رپورٹ امرائے اضلاع اور مربیان کی طرف سے عید سے دو دن پہلے اگر مل جائے تو عید کی خوشیوں میں شامل یہ خوشی بھی میرے لئے اور آپ کے لئے ہو جائے گی اور دوسری رپورٹ پندرہ تاریخ کو یعنی جو اجتماع ہے خدام الاحمدیہ کا غالباً ۲۳ کو ہے تو اس سے پہلے جمعہ کو سات دن پہلے وہ رپورٹ ملے کہ ہم تیار ہیں۔ہر جگہ سے، ہر ضلع سے، ہر گاؤں ، ہر قریہ، ہر قصبہ ہر شہر اس ضلع کا جو ہے اس کے نمائندے آئیں گے۔یہ انتظام جو ہے جس کے متعلق میں بات کر رہا ہوں اس کے بھی آگے دو حصے ہو گئے۔ایک کے متعلق میں نے پہلے بات کی تھی جو یہاں کے رہنے والے ہیں۔ایک کے متعلق میں اب بات کر رہا ہوں جن کا تعلق باہر سے ہے۔اور دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت نوع انسانی ایک خطر ناک ، ایک ہولناک ہلاکت کی طرف حرکت کر رہی ہے۔اس قسم کی خطرناک حرکت ہے جو انسان کو تباہ کرنے والی ہے اور عقل میں نہیں ان کے آ رہی بات کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔اس واسطے تمام احمدی یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو سمجھ اور فراست عطا کرے کہ اپنے ہی ہاتھ سے اپنی ہلاکت کے سامان نہ کرے اور خدا تعالیٰ ان کو اس عظیم ہلاکت سے جس کے متعلق پیش گوئیاں بھی ہیں بچالے۔ہر انذاری پیشگوئی دعا اور صدقہ کے ساتھ ٹل جاتی ہے۔ان کو تو سمجھ نہیں، انہوں نے اپنے لئے دعا نہیں کرنی۔مجھے اور آپ کو تو سمجھ ہے۔ہمیں ان کے لئے دعا کرنی چاہیے اور صدقہ دینا چاہیے۔اجتماعات پر صدقہ دینا چاہیے نوع انسانی کو ہلاکت سے بچانے کے لئے اپنی طاقت کے مطابق ہم صدقہ دیں گے اجتماعات کے موقع پر لجنہ اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ یہ تین انتظامات ۲۱، ۲۱ بکروں کی قربانی نوع انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے ان