خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 13

خطبات ناصر جلد نهم ۱۳ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۱ء طور اور طریق سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی محبت میں فانی ہو گئے اور اس لئے صفات باری کے اتم مظہر بنے۔وہ اور چیز ہے، وہDelegation of Power (ڈیلیگیشن آف پاور ) نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے سارے انسانوں کو خود اپنے نفس کے لئے نیز دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے یہ طاقت دی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اپنی اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق خدا تعالیٰ کی محبت میں فانی ہو کر اس کی صفات کے مظہر بن سکتے ہیں۔بہتوں نے صفات باری کا رنگ اپنے پر چڑھایا لیکن اپنی اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر عظیم استعداد اور صلاحیت دی کہ کسی اور انسان کو ویسی استعداد اور صلاحیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں عطا ہوئی اور پھر اس کی پرورش، اس کی نشو ونما اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کی اللہ تعالیٰ نے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کریم میں کامل طور پر فانی ہوکر ایک نئی زندگی پائی ، وہ ایک اور چیز ہے لیکن اقتدار کا ، طاقت کا Delegate (ڈیلیگیٹ ) ہو جانا کسی کی طرف یہ اور چیز ہے۔یہ دونوں چیزیں آپس میں ایک نہیں ہیں اور اس سے کوئی غلط استدلال نہیں کیا جاسکتا۔بہر حال خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ جو مختلف مذاہب میں مختلف اوقات میں دنیا کے مختلف خطوں میں یہ واقعہ ہوا کہ ”میرا پروانہ لے لو اور تمہیں خدا تعالیٰ سیدھا جنت میں بھیج دے گا یا اگر تم مجھے ناراض کر دو گے تو میں جہنم کا سرٹیفکیٹ جاری کر دوں گا اور پھر تم جنت میں جا ہی نہیں سکتے قرآن کریم اسے تسلیم نہیں کرتا۔بڑی وضاحت سے اس کی نفی کی گئی ہے۔یہ مضمون آج میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ بعض احمدی بھی بعض دفعہ غصے میں مخالف کے متعلق ایسی بات کر دیتے ہیں کہ گو یا ان کو خدا تعالیٰ نے خدائی کی یہ طاقت دے دی کہ وہ یہ حکم لگائیں کہ فلاں شخص ضرور جہنم میں جائے گا یا فلاں شخص ضرور جنت میں جائے گا۔نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِك سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب انسانوں کو مخاطب کر کے کہ جو تم ظاہر کروا سے جو تمہارے دل میں ہے یا تم چھپاؤ اسے انسانوں سے ( خدا تعالیٰ پر تو ہر چیز ظاہر ہے اس سے تو کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکتی ) يُحَاسِبُكُم بِهِ الله (البقرۃ: ۲۸۵) اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کی یعنی جو صاحب اقتدار ہے مَالِكِ كُلّ خَالِقِ كُلّ یہ اس کی حاکمیت کا ایک حصہ ہے وہ حساب لے گا پھر