خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 244 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 244

خطبات ناصر جلد نهم ۲۴۴ خطبه جمعه ۲۸ /اگست ۱۹۸۱ء ایک اور بات جب Deliverance of the Christ from the cross کا نفرنس ہوئی اس میں جو میں نے پیپر (Paper) پڑھا اس کا پہلا فقرہ یہ تھا:۔66 The Unity and Oneness of God is the basic truth of this Universe۔یہیں سے ساری Universe (یونیورس) عالمین کا وجود ابھرا۔پس لا إِلهَ إِلَّا اللهُ کا تعلق کسی ایک خطہ ارض یا کسی ایک Planet یا کسی ایک Galaxy ( کلیلیکسی ) یا بہت سی (گیلیکسیز ) کا جو مجموعہ ہے اس کے ساتھ نہیں بلکہ ساری کائنات جو ہے ہر آن جس )Galaxies ت ہے، میں وسعت پیدا ہورہی ہے، ( قرآن کریم میں آیا کہ وہ موسع ہے، وسعت پیدا کرتا ہے اور یہ حقیقت سائنس نے آج مانی ہے ) پس جو ہر آن وسیع سے وسیع تر ہونے والی کائنات Universe (یونیورس) ہے۔عالمین ہے، اس کی بنیاد ہے۔لا الہ الا اللہ کسی ایک چھوٹے سے حصے میں لا الہ الا اللہ کو قید یا محدود نہیں کیا جاسکتا۔یہ ساری Galaxies ( گیلیکسیز ) کسی غیر معین ، نامعلوم جہت کی طرف حرکت کر رہی ہیں اور ان کی حرکت Parallel نہیں۔یہ نہیں کہ آپس کا فاصلہ ہمیشہ قائم رہے بلکہ اس حرکت کے نتیجے میں Galaxies ( گیلیکسیز ) کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے اور جب دو کیلیکسیز کے درمیان فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ جائے کہ ایک اور گیلیکسی بے شمار سورج اپنے اندر سمیٹے وہاں سما سکے تو خدا تعالیٰ کُن کہتا ہے اور وہ وہاں پیدا ہو جاتی ہے۔یہ ہے ہمارا رب۔تو ساری کائنات جو ہے ( اور کائنات میں وسعت پیدا ہورہی ہے، اور یہ تو میں نے وسعت آپ کو بتائی ہے جو مکان کے لحاظ سے پیدا ہوئی ) اس کائنات کے ساتھ لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا تعلق ہے۔ایک اور وسعت ہے جو ہر فرد کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ایک عاجز انسان نہ مکانی وسعتوں کی ، نہ اندرونی وسعتوں کی حدوں کو چھو سکتا ہے لیکن دعوی کرتا ہے کہ ہم اپنے رب کی صفات کو بعض دائروں کے اندر محدود کرنے کی اہلیت اور طاقت رکھتے ہیں انا للہ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة: ۱۵۷) نہیں رکھتے ہم یہ طاقت۔اور ایسے شرک سے احمدیوں کو بچنا چاہیے۔خدا تعالیٰ رَبِّ KURDALANGANA ہے اور ANTALLAT ہر دو پہلوؤں سے وسعت پذیر ہے اور اس