خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 232 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 232

خطبات ناصر جلد نہم ۲۳۲ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء تیسری عظیم چیز آپ لے کے آئے الکتاب۔قرآن کریم کو قرآن کریم میں الکتاب کہا گیا ہے اور الکتاب کے شروع میں ہی ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ٣) کی آیت الکتاب کے صحیح اور پورے معنی بتارہی ہے۔اس میں یہ بتایا گیا کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں ، اس کتاب کو اتارنے والا ہوں تو اس کا Source ( سورس ) اور منبع جو ہے وہ عالم الغیب خدا کی ذات ہے یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا تعالیٰ کے علم سے خلعت وجود پہنا۔اس لئے یہ کتاب ہر ایک غلطی اور شک وشبہ سے پاک ہے اور اس لئے یہ کتاب کامل متقیوں کے لئے بھی ہدایت ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی فطرت تدریجی ترقی کرتی ہے، جسمانی نشو و نما میں بھی ، اخلاقی نشوونما میں بھی اور روحانی نشونما میں بھی۔تو ایک متقی جو ہدایت کی راہوں پر چل کے خواہ کتنا ہی بلند ہو جائے ، مزید بلندیوں کے دروازے اس پر اس عظیم کتاب کے ذریعہ سے کھولے جاتے ہیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک فقرے میں اس سارے مفہوم کو بڑی خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔یہ وہ کتاب ہے جو خدا تعالیٰ کے علم سے ظہور پذیر ہوئی ہے اور چونکہ اس کا علم جہل اور نسیان سے پاک ہے اس لئے یہ کتاب ہر ایک شک وشبہ سے خالی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا علم انسانوں کی تکمیل کے لئے اپنے اندر ایک کامل طاقت رکھتا ہے اس لئے یہ کتاب متقین کے لئے ایک کامل ہدایت ہے اور ان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جو انسانی فطرت کی ترقیات کے لئے آخری مقام ہے (جہاں تک پہلے کوئی نہیں پہنچا ) تو یہ تیسری عظیم چیز جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے وہ الکتاب ہے جیسا کہ فرمایا يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ - اور چوتھی چیز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے وہ ہے حکمت۔اور حکمت کے معنی ہیں حقیقت کتاب اور حقیقت رسالت یعنی قرآن کریم کی اصطلاح کی رو سے جو اس کتاب کی حقیقت ہے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عظمت ہے اس کے دلائل پیش کرنا حکمت کے معنی میں شامل ہے۔یہ قرآن کریم کی شان ہے کہ یہ انسان کو روشنی پر روشنی عطا کرتا چلا جاتا ہے، دلیلیں