خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 10
خطبات ناصر جلد نهم 1۔خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۱ء ایسے نہ ہوں وہ عمل غَيْرُ صَالِح (هود: ۴۷ ہیں۔بدا اعتقادی کی وجہ سے وہ ایسے اعمال ہیں جو انسان کو انسان ہونے کے لحاظ سے اس کی جسمانی روحانی ترقیات کے لئے جو معین راستہ ہے ترقیات کا ، اس راستہ سے ہٹا دیتے ہیں۔ایک احمدی مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی سوچ اور فکر میں وہ بہکے نہ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم ہے اس کی روشنی سے دور نہ جائے اور اپنے اعتقادات میں ان اصول کا پابند ہو جو قرآن عظیم جیسی کتاب نے ہمارے ہاتھ میں دیئے زندگی گزارنے کے لئے ، اور جس جہت سے اور جس تعریف کے لحاظ سے عملِ صالح کہا گیا ہے، اعمالِ صالحہ بجالانے والا ہو۔قرآن کریم کی حکمرانی انسانی زندگی کی ان ہر سہ قسم پر حاوی ہے۔حاکم ہے قرآن کریم کی حکمرانی ہماری سوچ اور فکر پر بھی ، ہمارے اعتقادات پر بھی ہمارے اعمال پر بھی ہے، اگر ہم اپنی سوچ میں بہک جائیں یا اپنے اعتقاد میں اندھیروں کو پیدا کر دیں یا اپنے عمل میں بھٹک جائیں صراط مستقیم سے تو ہماری زندگی کا ہر پہلو ایسا ہوگا جسے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا۔بڑے احتیاط سے چوکس رہ کر اللہ تعالیٰ کی خشیت کو اپنی زندگی میں قائم رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے ورنہ خرابی پیدا ہوتی ہے نوع انسانی کی زندگی میں۔مثلاً جب سوچ اور فکر بہک گئی تو Super Man (سپر مین ) کا تصور پیدا ہو گیا۔یعنی ایسا انسان جو انسانوں میں سب سے بالا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا تھا کہ جب تم انسانوں کے باہمی تعلقات کے متعلق سوچنا شروع کرو تو اس اصول پر سوچو۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الکھف: ۱۱۱) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے انسان انسان میں کوئی فرق نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم انسان اور دوسرے انسانوں میں بھی انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہے اور اس اصول کو نہ سمجھنے یا بھول جانے کے نتیجہ میں انسانی زندگی میں بڑی خرابیاں پیدا ہوئیں۔بڑے دکھ پیدا ہوئے۔بڑی قتل وغارت کی گئی اور مذہبی زندگی میں جب انسان انسان میں تمیز روا رکھی گئی اور اَرْبَاب مِنْ دُونِ اللَّهِ بن گئے انسان ، تو اس کے نتیجہ میں ، ( میں نے ایک کتاب میں پڑھا) ایک بہت بڑے غیر مسلم مذہبی راہنما کے حکم سے ( یہ صدیوں پہلے کی بات ہے، اب تو انسان نسبتا زیادہ مہذب ہو گیا ہے ) صرف ایک انسان