خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 9
خطبات ناصر جلد نهم ۹ خطبہ جمعہ ۹؍ جنوری ۱۹۸۱ء اعمال اور اعتقادات کی بنیاد خشیت اللہ پر ہونی چاہیے خطبه جمعه فرموده ۹ جنوری ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسانی زندگی تین حصوں میں منقسم ہے ایک تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیدار بنایا ہے اس کو حواس بخشے ہیں۔وہ دیکھتا سنتا، محسوس کرتا ہے اور سوچتا ہے اس کی سوچ اور فکر جو ہے یہ اس کی زندگی کا ایک حصہ ہے دوسرے حصے کا تعلق انسان کے اعتقادات کے ساتھ ہے۔وہ بعض اصول اپنا تا ہے۔یہ لازمی حصہ ہے انسانی زندگی کا۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے بھی اپنی زندگی کے لئے بعض اصول وضع کئے ہوئے ہیں کیونکہ انسانی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ کوئی بندھن بھی ہوں جن میں انسان کو باندھا جائے ورنہ انسان انسان نہیں رہتا وحشی حیوان بن جاتا ہے۔ہماری اصطلاح میں ان کو اعتقاد کہتے ہیں، اسلام نے ہمیں جو دیا وہ اعتقادات صحیحہ ہیں۔اسلام سے باہر جو اصول وضع کئے گئے ہیں ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی ہیں اور اچھے اور برے کا مرکب بداعتقادی کہلاتا ہے عقلاً بھی اور مذہباً بھی۔تیسرا حصہ انسانی زندگی کا اس کے اعمال ہیں۔وہ اعمال جو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستہ پر چل کر انسان کرتا ہے، صراط مستقیم کو اختیار کرتے ہوئے ، انہیں اعمالِ صالحہ کہا جاتا ہے۔اور جو