خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 224
خطبات ناصر جلد نهم ۲۲۴ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء ذکر ہے اور تمام بنی نوع انسان کا یہاں ذکر نہیں۔دوسری جگہ ہے کہ بڑا احسان ہوا انسان پر کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ان کی طرف لیکن اس آیت میں انسانوں کو مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کو مخاطب کیا گیا ہے جنہوں نے بعثت نبوی سے وہ تمام فوائد حاصل کئے جن کی خاطر یہ بعثت ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ (الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا) حقیقی معنی میں مومن ہوئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں میں سے ایک ایسا رسول بھیج کر جو انہیں اس کے نشان پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے یقیناً ان پر احسان کیا ہے، اور وہ اس سے پہلے یقینا کھلی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اس گمراہی میں سے نکالا اور اللہ تعالیٰ نے یہ احسان کیا ان پر کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ بڑی ہی آسمانی نعمتیں لے کر آئے اور ایک گروہ انسانوں میں سے ایسا پیدا ہوا جنہوں نے قبول کیا اور فائدہ اٹھایا برکات سماوی سے حصہ لیا اور خدا کی نگاہ میں وہ پاک ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے نشان ان کی زندگیوں میں اور ان سے ظاہر ہوئے تو (مج اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ) میں نے بتایا کہ ہر انسان پر آپ کا احسان ہے لیکن اس آیت میں ذکر ہے صرف مومنوں کا اور دو احسان (بڑے ہی پیارے ہیں وہ ) جو اللہ تعالیٰ کے پیار کا اظہار کرتے ہیں مومنوں پر ہوئے ، ان کا اس میں ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ نے یہ احسان کیا جماعت مومنین پر کہ ان میں ایک اتنا عظیم رسول مبعوث ہوا جس کے طفیل ساری کی ساری اور پوری کی پوری آسمانی نعمتیں حاصل کی جاسکتی ہیں اور دوسرا یہ فضل ہوا مومنوں پر کہ جو ادھوری نعمتیں پہلوں پر نازل ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کے نسبتاً کم فضل کے وہ وارث ہوئے تھے اس کے مقابلہ میں اب ایک ایسا گروہ پیدا ہوا جنہیں کامل نعمتیں حاصل ہوئیں اور خدا تعالیٰ کے وہ اس قدر پیارے ہوئے کہ اس سے پہلے بنی آدم میں کوئی قوم اتنی پیاری اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہیں ہوئی۔تو ایک تو احسان ہے بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرا یہ احسان ہے کہ آپ عظیم تعلیم لے کر آئے۔اس کو یہاں اللہ تعالیٰ نے چار شعبوں میں