خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 219
خطبات ناصر جلد نهم ۲۱۹ خطبہ جمعہ ۷ /اگست ۱۹۸۱ء کے منصوبے بنائے لمبا عرصہ یہ بھی ہے۔بہر حال ان سب مظالم کو سہنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قوت اور عزت اور غلبہ کے نتیجہ میں (جو اس کی صفات ہیں ) ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ دس ہزار قدوسیوں کا ایک گروہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ پہنچا تو جو ر و وسائے مکہ اس ظلم کے باپ تھے ، ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی عزت کی خاطر اور اپنی عورتوں کی عزت کی خاطر تلوارمیان سے نکالتے اور بغیر لڑے انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور وہ جانتے تھے، ان کی اندر کی ، ان کے نفس کی آواز یہ تھی کہ جس قدر ظلم ہم نے ڈھائے ہیں اب حق ہے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کہ ہم سے جیسا بھی سلوک کریں، کریں لیکن سلوک کیا کیا ان سے؟ سلوک ان سے یہ کیا لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف: ۹۳) تمہارے سارے گناہ ہم معاف کرتے ہیں، میں اور میرے ماننے والے اور دعا کرتا ہوں میں کہ اللہ تعالیٰ بھی معاف کر دے۔انسان جب معافی دے دے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ بھی اس معافی کو قبول کر لے۔قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر ہے اس کا۔لیکن اس مقام کے اوپر خدا تعالیٰ سے جس درد کے ساتھ رؤوسائے مکہ کے لئے اور جو عرب کا ملک تھا اس کی اصلاح اور ان کے اسلام لانے کے لئے دعائیں کی تھیں اس دن اسی درد کے ساتھ خدا کے حضور یہ دعا بھی کی کہ اے خدا! ہم بھی معاف کرتے ہیں اور تو بھی انہیں معاف کر اور خدا تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔یہ خلق عظیم ہے۔66 آپ کا ہر عمل اتنی عظمتیں رکھتا ہے کہ اس کا تصور انسانی دماغ پوری طرح نہیں کرسکتا۔ہر دماغ اپنی طاقت کے مطابق اسے کچھ سمجھتا ہے لیکن بڑی عظمتیں ہیں ایسی عظمت کہ جس سے بڑھ کر عظمت نہیں ہو سکتی۔یہ جو خلق عظیم ہے اس نے دل جیتے۔اس نے اس یہودی کا دل بھی جیتا جو مہمان آیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس رکھا۔اس کو اسہال شروع ہو گئے رات کو بسترے کے اوپر اجابت ہوگئی اور شرم کے مارے وہ رات کے اندھیرے میں بھاگ گیا وہاں سے کہ کیا منہ دکھاؤں گا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو لیکن اپنے روپوں کی تھیلی ، اپنے سکوں کی تھیلی وہیں بھول گیا۔یہودی آپ جانتے ہیں پیسہ نہیں چھوڑتا ، جب اس کو یاد آیا تو شرم پر پیسے کی محبت غالب آئی اور وہ واپس آیا اور اس نے جو نظارہ دیکھا وہ یہ تھا کہ اس گند کو جو وہ پیچھے چھوڑ کے گیا تھا