خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 218

خطبات ناصر جلد نهم سوچا کہ خود اس پر عمل کروں۔۲۱۸ خطبہ جمعہ ۷ /اگست ۱۹۸۱ء بہر حال یہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ دل اس انقلاب عظیم کے لئے بہت بڑے پیمانہ پر کیسے جیتے گئے اور کیسے جیتے جائیں گے ساری نوع انسانی کے دل؟ اس لئے سنو ! قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وو 66 إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : ۵ ) کہ ایک عظیم خلق پر ، اچھے اخلاق جس کی عظمتیں ہیں آپ قائم ہیں (عربی کا لفظ عظیم جو ہے اس کے معنے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ) آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خُلُقٍ عَظِیمٍ “ پر قائم کیا گیا ہے، اپنی وسعتوں کے لحاظ سے بھی کہ ساری دنیا میں اس کے اثر نے پھیلنا اور نوع انسانی کو اس اثر نے اپنے احاطہ میں لینا ہے اور رفعتوں کے لحاظ سے ایسا کہ اس خُلق عظیم پر چلتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنے رب کریم کے انتہائی قریب پہنچ گئے۔ہر شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر اگر چلے گا تو انتہائی رفعت کو حاصل کر لے گا اپنے دائر کا استعداد میں۔اس قدر عظیم ہے یہ خلق خلق عظیم جسے کہا گیا ہے، یہ خلق جو ہے وہ بڑا عظیم ہے۔دشمن ہوتے ہیں، بہت ہی کم لوگ ہوں گے دنیا میں جو لمبا عرصہ دشمن کے وار سہنے کے بعد اور وار بھی انتہائی، تیرہ سالہ زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے انتہائی مظالم ڈھائے آپ پر، آپ کے متبعین پر ، ان میں سے ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ اڑھائی سال تک ہر ممکن کوشش کی کہ بھوکوں مر جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ منصوبہ بھی نا کام کیا، پھر جو غلام تھے ان کے، جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تو ان تیرہ سالوں میں جب تک کہ انہیں آزاد نہیں کیا اسلامی کوشش نے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے پیسے خرچ کئے ، اوروں نے بھی بڑی قربانیاں دیں ان لوگوں کے دکھوں کو دور کرنے کے لئے ، اس سے زیادہ شدید گرمی جس کے نتیجہ میں میں آج خطبہ چھوٹا کر رہا ہوں ، تپتی ریت پر ننگے جسموں کو لٹا کر کوڑے مارے گئے ان کو۔یعنی جتنا انتہائی ظلم آپ سوچ سکتے ہیں اس سے آگے بے انتہا فاصلے طے کرتا ہوا ان کا ظلم نکل گیا۔اور جب تیرہ سالہ ظلم سہنے کے بعد آپ نے ہجرت کی تو پیچھا کیا اور تلوار کے زور سے آپ کو مٹانے