خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 213
خطبات ناصر جلد نہم ۲۱۳ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۱ء عبادت ہی نہیں کی اللہ کی ، اس کے احکام پر وہ کاربند ہی نہیں رہا، اس نے اتباع رسول کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی ، وہ خدا کو بھول گیا۔خدا نے تو کہا تھا تم مجھے بھولو گے میں تمہیں بھول جاؤں گا ( خدا تعالیٰ کے علم میں تو ہر چیز رہتی ہے ) مطلب یہ ہے کہ میں تم سے ایسا سلوک کروں گا کہ گویا میں جانتاہی نہیں تمہیں کہ تم ہو بھی یا نہیں تمہارے ساتھ پیار نہیں کروں گا۔تو جو شخص گیارہ مہینے خدا کو بھولا رہتا ہے وہ بارہویں مہینے میں کس طرح امید رکھتا ہے کہ مہینے میں یا اس مہینے کی ایک رات میں یا ایک موقع کے اوپر کوئی ایسا عمل وہ کرے گا کہ خدا تعالیٰ مجبور ہو جائے گا کہ وہ اس وقت کی دعا کو قبول کرے۔خدا نے کوئی ایسا وعدہ نہیں دیا ہمیں۔تو ایک تو ہے انقلاب عظیم اجتماعی نوع انسانی کا۔ایک ہے فردفرد کے اندروہ خاصیتیں اور خواص اور وہ صفات اور وہ اخلاق پیدا ہو جائیں کہ وہ اس بوجھ کو جو بڑا عظیم بوجھ ہے کہ ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے ایک انقلاب عظیم بپا کرنا ہے اس بوجھ کو وہ برداشت کر سکیں۔تو یہ ہے لیلتہ القدر اور یہ اہمیت ہے ماہِ رمضان کی۔ماہِ رمضان ہمیں خدا سے دور لے جانے کے لئے نہیں آیا کہ گیارہ مہینے تم بے شک دور رہو خدا سے۔ماہِ رمضان ہمیں یہ بتانے کے لئے آیا ہے کہ اگر تم نے گیارہ مہینے خدا سے دوری میں گزارے تو ماہِ رمضان کی کوئی گھڑی تمہیں فائدہ نہیں پہنچائے گی۔اس واسطے توجہ کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھو اور اپنی ہی شریعت بنانے کی کوئی شخص کوشش نہ کرے۔خدا نے کہا ہے کہ میں نے وحی نازل کر دی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہے قرآن کریم میں کہ اس وحی کی طرف، اس شریعت کی طرف تو لوگوں کو بلا اور ان کو کہہ دے کہ اسی میں تمہاری خیر اور بھلائی ہے۔یہ نہیں کہ ہم اپنے مطالب اپنی مرضی کے لئے یا اہوائے نفس کو پورا کرنے کے لئے۔خواہشات نفس سے مجبور ہو کر شریعت میں کوئی عملی یا اعتقادی تبدیلیاں کرنے لگ جائیں۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ قرآن کریم نے جو حدود قائم کئے ہیں یہ حدود قرآن کریم کی تعلیم کی سرحدیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے حُدُودُ الله کے نام سے حدود قائم کئے ہیں ان سے باہر نہ