خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 211
خطبات ناصر جلد نهم ۲۱۱ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۱ء رکھنے کے لئے ایسے دل چاہئیں جو خدا کی رضا کی جستجو میں دھڑ کنے والے ہوں، ایسے سینے چاہئیں جو خدا اور اس کے رسول اور قرآن کریم کے نور سے منور ہوں ایسی زبانیں چاہئیں جو خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھک کر اس سے اس کی رحمت اور برکت کے حصول کے لئے مجاہدہ کر رہی ہوں اور اس کے بندوں کے سامنے عاجزی سے اپنے پیار کا اور اپنے خیر مجسم ہونے کا ثبوت دے رہی ہوں۔اس کے لئے اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (البقرة : ۱۵۴) قرآن کریم نے بنیادی اصول یہ رکھا کہ صبر اور استقامت کے بغیر تم خدا کا فضل حاصل نہیں کر سکتے صبر اور استقامت قریباً ہم معنی ہیں جو خدا تعالیٰ نے اوامر اور نواہی نازل فرمائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جو قرآن کریم میں بیان ہیں۔ان کو مضبوطی سے پکڑ لینا اور اس تعلیم پر قائم ہوجانا اور دنیا کا کوئی زلزلہ جس شکل میں بھی وہ ظاہر ہو پاؤں میں لغزش نہ پیدا کرے، اس کو استقامت کہتے ہیں اور جو اوامر اور نواہی ہیں ان کی تفصیل قرآن عظیم میں بیان ہوئی ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تمہارے اند راس انقلاب عظیم کا خادم بننے کی طاقت اس وقت پیدا ہوگی جب تم مضبوطی کے ساتھ سارے احکام کی پابندی کرنے والے بن جاؤ گے روزانہ پانچ نمازیں شرائط کے ساتھ ادا کرنے والے ہو گے یہ اجازت نہیں دی جائے گی پچاس سے زیادہ ہفتے نمازوں کا ناغہ کرو اور رمضان کے ایک جمعہ میں میں تمہیں معاف کر دوں گا۔بالکل نہیں کہا۔استقامت کے ساتھ ،صبر کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا حکم ہے ایک سیکنڈ کے لئے خدا تعالیٰ کے دامن کو چھوڑنا ہلاکت کو بلانا ہے۔لیکن قانونِ قدرت میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ یہ جو تسلسل ہے۔وقفے وقفے کے بعد اس میں مضبوطی پیدا کی جاتی ہے۔ایک مثال دو سال سے بلکہ ۷۴ ء کے بعد سے ربوہ میں مکان بہت بن رہے ہیں اور اس میں سیمنٹ اور لوہا والے مکان بھی بہت سے ہیں اب جو Lintel (لینکل ) پڑتا ہے تو وہ ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ مثلاً ایک کمرہ ہی اگر کسی نے ڈالنا ہے مستطیل ۳۰×۱۲ کا سمجھ لو یا ۲۰×۱۶ کا سمجھ لو تو اس کے چار کونے ہوئے ہر کنارے پر جوسر یا ساری چھت پر پڑا ہوا ہے اس سے زیادہ سر یا ڈالیں گے تو چھت ٹھیک قائم رہے گی ورنہ نہیں ، کمزوری ہو جاتی ہے پیدا۔پھر