خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 210

خطبات ناصر جلد نہم ۲۱۰ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۱ء کو ( گر وہ غلطی کرنے والے بھی ہوتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے اسلام پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ) کا فر کہا گیا ، مرتد کہا گیا، ملحد کہا گیا۔بڑی خطرناک قسم کی اذیتیں ان کو پہنچائی گئیں۔وہ اپنی جگہ درست، لیکن قرآنی تعلیم اس کو برداشت نہیں کرتی۔خدا تعالیٰ نے تو کہا تھا کہ تمہیں میں نے خیر مجسم کے ماننے والے بنایا ہے اور تمہیں خیر مجسم اپنے اپنے دائرہ اور طاقت اور استعداد کے مطابق بننا پڑے گا۔اگر میری نگاہ میں تم نے کوئی حیثیت حاصل کرنی ہے تو قرآن کریم پر عمل کرنا پڑے گا۔یہ انقلاب عظیم جس نے ساری دنیا کو اپنی خیر اور اپنے نور میں لے کر محیط ہو جانا تھا یہ بتا یا گیا تھا کہ یہ تدریجی ترقی ہوگی اور بتایا گیا تھا کہ یہ ارتقائی تدریجی ترقی اپنے عروج کو آخری زمانہ میں پہنچے گی اور اب پہنچ رہی ہے۔انشاء اللہ ایک صدی میں اب بہت بڑا انقلاب عظیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے نتیجے میں ، آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ، ان بشارتوں کے نتیجہ میں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی تھیں یہ بپا ہو جائے گا انقلاب لیکن اس وقت تک جو چیز بڑی عظمتوں والی ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (ابراهیم : ۵۲) آپ یہ نہ سمجھیں کہ اسلام کے مخالفوں نے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی میں اسلام کو مٹانے کی کوشش کی بلکہ جو چودہ صدیاں گزرچکی ہیں ہر صدی میں ( میں سمجھتا ہوں کہ ) ہزاروں، شاید لاکھوں منصوبے بنائے گئے ہوں اسلام کو مٹانے کے اور ہر صدی میں ان لاکھوں منصوبوں کو اللہ تعالیٰ نے ناکام کر دیا۔کمزوریاں بھی پیدا ہوئیں، سیاسی لحاظ سے ملک بھی ہاتھ سے نکلے لیکن مطہرین کا ایک گروہ ہر زمانہ میں قائم رہا، موجود رہا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ایک جگہ کہ جسے ہم فیج اعوج کا زمانہ کہتے ہیں جب اسلام اپنے انتہائی تنزل میں سے گزررہا تھا اس وقت بھی ایک ٹھاٹھیں مارتے دریا کی طرح اولیاء اور مطہرین کا گروہ تھا جنہوں نے اسلام کی شمع کو روشن رکھے ہوا تھا۔ایک تو ہے یہ لیلتہ القدر جس نے نوع انسانی کی قسمت کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایک حسین فیصلہ کیا اور یہ انقلاب عظیم جاری ہے، جاری رہے گا قیامت تک اس انقلاب کو قائم