خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 209

خطبات ناصر جلد نهم ۲۰۹ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۱ء انقلاب اسے کہہ لیں آپ لیکن انسانی خیر کا انقلاب نہیں ہے۔میں دورے کرتا رہا ہوں یورپ، امریکہ وغیرہ ممالک کے۔اپنے عقائد پر میرا مشاہدہ ہے کہ جو پختہ اشترا کی ہیں وہ اسلامی تعلیم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اعلان یہ کیا کہ سارے دنیا کے ”سائل“ اور ”محروم (قرآنی محاورہ میں نے لیا)، اکٹھے ہو جاؤ تمہاری بھلائی کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں Proletariat of the World Unite اور پھر کمیونسٹ چیکوسلوواکیہ پر اپنی فوجیں لے کے دھاوا بول دیا۔چیکوسلوواکیہ میں رہنے والے غریب عوام جو تھے ان کو تو تم نے یہ کہا تھا کہ تمہاری بھلائی کے لئے ہم انقلاب بپا کر رہے ہیں۔ان کی بھلائی کے لئے تمہارے ہوائی جہازوں سے بم بر سے Bombing کی تم نے تمہاری تو پوں کے دہانوں سے گولے برسے، اس میں ان کی بھلائی نظر آئی تمہیں اور یہ ایک واقعہ نہیں ان کی زندگی کا ، بے شمار واقعات ہیں۔صرف اسلام ہے جس نے کہا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : 1) اور جو بچے اور حقیقی مسلمان مومن ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے وقت سے، ان نسلوں کے وقت سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کی آج تک ، ایک بڑا دھارا ایسا چلا ہے جو اس بات پر قائم ہے کہ کسی کو دکھ نہیں پہنچا نانہ زبان سے، نہ ہاتھ سے ، ہر دکھ کو دور کرنے کی کوشش کرنی ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کے متعلق کہہ دیا اور سارے احکام قرآن کریم کے ایسے جن کا دُنیوی زندگی سے تعلق ہے، دنیا کی بھلائی سے تعلق ہے ، اس میں ایک جگہ بھی ( آپ، آپ نے پڑھا ہے ممکن ہے بہتوں نے غور کیا ہو، نہیں کیا تو آگے تلاوت کرتے ہوئے غور کریں ) کوئی حکم ایسا نہیں جس میں مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کیا ہو۔مثلاً چھوٹی سی میں ایک مثال لیتا ہوں بالکل چھوٹی سی لا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات :۱۲) کہ حقارت سے دوسروں کے نام بدل کے خودان کے نام نہ ڈالا کرو۔یہ نہیں کہا کہ اس قسم کے القاب رکھنا، برے نام رکھنا، اگر تمہارا مخاطب غیر مسلم ہے تو جائز ہے بلکہ تمہیں حکم ہے کہ تم نے لا تَنَابَزُوا بِالْالقاب القاب نہیں رکھنے۔اگر کوئی شخص خود کو مثلاً حفی العقیدہ کہتا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کو حنفی العقیدہ کہو یعنی حنفی فقہ جو ہے اس کے اوپر وہ چلنے والا ہے اور فتوے نہ لگاؤ ان کے اوپر۔خود امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ