خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 199
خطبات ناصر جلد نهم ۱۹۹ خطبہ جمعہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۱ء دعاسے مختلف ہیں۔صلوۃ دعا بھی ہے لیکن ہر دعا جو ہے وہ صلوٰۃ نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں۔جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوۃ نہیں۔( یہ بات میں اپنی طرف سے واضح کر دوں کہ اللہ تعالیٰ نے دُنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم خدا سے مانگیں لیکن یہاں یہ سوال نہیں کہ وہ حکم ہے یا نہیں، یہاں یہ ہے کہ اس کو دعا نہیں ہم کہتے۔ضروری ہے آپ نے فرمایا جوتے کے تسمے کی بھی ضرورت ہے تو یہ نہ سمجھو کہ کوئی دکان تمہیں تسمہ دے دے گی ، مجھ سے مانگو ) لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے اور عجز ، انکسار، تواضح اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوٰۃ میں ہوتا ہے۔اور پھر آپ دوسری جگہ فرماتے ہیں۔وو دل پگھل جائے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے“ ( یہ ہے صلوٰۃ) تو جو معنی صلوٰۃ میں ، صلوۃ کے لفظ میں ، موٹے تو ہر ذہن میں آتے ہیں دعا کرنا یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ایک خاص دعا ہے، یہ آتے ہیں لیکن اس کے معنی میں عجز اور انکساری بھی شامل ہے وہ جو چھپا ہوا حصہ تھا اس معنی کا اس آیت نے اسے کھول کر بیان کر دیا که إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِین کہ جب تک عجز و انکسار کی راہوں کو اختیار نہ کیا جائے تم وہ حقیقی دعا جسے ہم صلوۃ کہہ سکتے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے مانگ نہیں سکتے۔میں نے بتایا کہ یہ جو عاجزی اور انکساری ہے اس کے لئے معرفتِ ذات وصفاتِ باری ضروری ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور دوسری اس کی عظیم جو صفات ہیں ان کی معرفت اپنی اپنی عقل اور استعداد کے مطابق ان کا جاننا ضروری ہے۔تو میں یوں کہہ سکتا ہوں کہ خودی جب انانیت کا روپ دھارتی ہے تو ہلاکت بن جاتی ہے اور خودی جب اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو پہچانتی اور ان عظمتوں کے دریا میں غرق ہو جاتی اور فنا ہو جاتی ہے تو اس قسم کا حسن اور روپ اس