خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 181 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 181

۱۸۱ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۸۱ء خطبات ناصر جلد نہم آپ نے گلے میں باندھ لیا یا باز و پر لٹکا لیا جیسا کہ دنیا کے بعض علاقوں میں ہو رہا ہے تو وہ تعویذ کے طور آپ کو فائدہ پہنچانے لگے۔اپنی تمام عظمتوں اور تمام اثرات اور تمام وعدوں اور بشارتوں کے ساتھ آپ کے حق میں اس وقت قرآن کریم فیصلہ دیتا ہے جب آپ قرآن کریم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے ہیں۔پہلی بات یہاں یہ بیان ہوئی ہے کہ قرآن عظیم موعظہ ہے۔اس کے عام طور پر معنی کرتے ہیں نصیحت کے نصیحت کا لفظ انسان کے لئے بھی بولا جاتا ہے کہ ایک شخص نے فلاں کو نصیحت کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے بھی قرآن کریم میں یہ لفظ بولا گیا ہے۔جب قرآن کریم میں یہ لفظ بولا جائے کہ خدا تعالیٰ نے اسے نصیحت اور موعظہ بنا کے بھیجا ہے تو اس کے معنی قرآن کریم کی لغت کے ماہر ہمارے جو بزرگ گزرے ہیں انہوں نے یہ کئے ہیں کہ ایسی تعلیم ایسی ہدایتوں پر مشتمل تعلیم جو انسان کو آمادہ کرتی ہے اصلاح نفس پر اور رجوع الی اللہ کی طرف مائل کرتی ہے۔قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا تھا رمضان کی آیات میں ہی کہ اگر میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو انہیں کہو کہ میں قریب ہوں۔یہاں یہ ہے کہ میں قریب ہوں۔میرے سے تعلق پیدا کرو۔رجوع الی اللہ کی طرف تعلیم دینے والی یہ کتاب ہے اس لئے جو طریقے اللہ تعالیٰ نے تو بہ اور رجوع الیہ کے بتائے ہیں قرآن کریم میں وہ ہمارے سامنے آتے رہنے چاہئیں۔تلاوت کے وقت اس طرح نہیں تلاوت کرنی چاہیے جس طرح تیز گاڑیاں دنیا میں چل رہی ہیں یا ہوائی جہاز اڑ رہے ہیں۔بعض دفعہ تو ایسی آواز نکلتی ہے۔میں نے سنا ہے قرآن کریم پڑھنے والوں کے منہ سے کہ یہ ان کو بھی نہیں سمجھ آتی ہوگی کہ ہم سے کیا لفظ ادا ہو رہے ہیں یعنی ان کے کانوں کو۔ان کی آنکھیں تو دیکھ رہی ہوں گی لفظ لیکن ان کے کان نہیں تمیز کر سکتے ہوں گے کہ یہ کون سا لفظ میری زبان بول گئی۔اسی لئے قرآن کریم نے آہستگی سے، سمجے سمجھے رتِّلِ الْقُرآنَ تَرْتِيلًا (المزمل: ۵) کا حکم دیا تا کہ ساتھ ساتھ انسان کی توجہ غور کرے اور فائدہ حاصل کرے۔سبق اسے ملے اور پھر اس کی نیت کرے کہ میں نے اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے۔