خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 180
خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۰ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء سینوں میں پائی جاتی ہو، شفا دینے والی ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔تو ان سے کہہ دے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے وابستہ ہے۔پس اسی پر انہیں خوشی منانا چاہیے جو مال و دولت وہ جمع کر رہے ہیں اس سے یہ نعمت کہیں زیادہ بہتر ہے۔اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان پر مضبوطی سے قائم رہوں۔حقیقی مومن بنوں اور اس فرمان کے پہچاننے کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ تو ہر کبھی سے پاک ہوتے ہوئے اپنی توجہ کو ہمیشہ کے واسطے دین کے لئے وقف کر دے اور تو مشرکوں میں سے ہرگز نہ بن۔اور جو کچھ تیری طرف وحی کیا جاتا ہے اس کی پیروی کر اور صبر اور استقامت سے کام لے یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔یہ ماہ رمضان ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بالوضاحت بیان کیا گیا ہے اور میں نے بھی اپنے ایک خطبہ میں غالباً یہیں میں نے پڑھا تھا ، یہ بتایا تھا کہ ماہ رمضان کا بڑا گہرا تعلق ، قرآن عظیم سے ہے۔اس لئے بھی کہ اس کی عظمت قرآن کریم میں بیان ہوئی اور اس لئے بھی کہ سارا قرآن کریم رمضان میں اس معنی میں نازل ہوا کہ ہر رمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم جس حد تک نازل ہو چکا ہوتا ، اس کا دور کیا کرتے تھے۔قرآن عظیم اپنی وسعتوں اور اپنی گہرائیوں اور اپنی رفعتوں اور اپنے علو مرتبت کے لحاظ سے بڑی ہی عظیم کتاب ہے۔اپنے کمال میں بھی عظیم ہے، اپنے اثرات میں بھی عظیم ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا ہماری نجات کا موجب بن جاتا ہے۔جو آیات میں نے اس وقت تلاوت کی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم سے تم بارہ فوائد حاصل کر سکتے ہو اور ان کی طرف میں اس وقت دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ کوشش کریں اور کانشس ہو کے یعنی نیست ، خلوص نیت کے ساتھ قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور جن باتوں کا میں اس وقت ذکر کروں گا جو ان آیات میں ہیں ان کی تفاصیل مختلف آیات میں پائی جاتی ہیں تلاوت کے وقت ان کو تلاش کریں اور یہ جادو نہیں کہ آپ نے پڑھ لیا اور آپ کو فائدہ ہو گیا یا