خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 131
خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۱ خطبه جمعه ۵ /جون ۱۹۸۱ء اس لئے کہ وہاں تو فیصلہ ہو گیا۔انجام بد اس کے سامنے آ گیا۔ان سے ایک بات بھی نہیں کرے گا۔یہ سلوک ہے اللہ تعالیٰ کا۔ان کو اس قابل نہیں سمجھے گا کہ پیار کرنے والا خدا، معافی مانگنے کی آواز سننے کے لئے تیار ہو جانے والا خدا ، وہ انکار کر دے گا ان سے بات کرنے سے، پیار کی باتیں نہیں کرے گا۔یہ دونوں پہلو اس کے اندر آ جاتے ہیں اور جو عذر وہ پیش کرنا چاہیں گے۔قرآن کریم نے دوسری جگہ یہ بتایا ہے کہ دروازہ کے پاس بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا ان کو اور بہت ساری آیات اس کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔تو کسی قسم کی کوئی بات ان سے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔یہ سلوک ہے اللہ تعالیٰ کا۔اس دنیا میں کثرت سے کلام نہیں کرے گا۔مرنے کے بعد بات بھی نہیں کرے گا اور دوسری بات اس میں یہ بیان ہوئی ہے کہ ان پر نظر نہیں ڈالے گا۔ویسے تو ہر وقت ہر چیز اس کی نظر کے سامنے ہے۔تو یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ نظرِ التفات ، پیار اور توجہ کی نظر ، وہ نظر جو دعاؤں کے بغیر عطا کرنے والی ہے۔اگر انسان کو اس دنیا میں صرف دعا پر چھوڑ دیا جاتا تب بھی انسان کے لئے ہلاکت ہوئی۔آپ کو تو اپنے نفع کا بھی نہیں پتہ اس زندگی میں۔مگر خدا تعالیٰ کو پتہ ہے وہ اس کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔آپ نے اپنے وجود کے لئے اپنی ذات کے لئے وہ تمام صلاحیتیں اور استعداد یں پیدائش کے وقت مانگیں تھیں؟ جو اس نے آپ کو عطا کر دیں۔تو اس وقت دعا اور ہم کلام ہونا جو ہے اور وہ جو پیار کی باتیں کرتا ہے اس کا سوال نہیں بلکہ اس نے دیکھا اور فیصلہ کیا اور یہاں مطلب یہ ہے کہ نظرِ التفات نہیں ہوگی اور ان کے حق میں محبت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔مانگیں گے تب بھی نہیں ہوگا۔ضرورت ظاہر ہوگی ان کی۔ایک تڑپ ایک دکھ ان کے اندر۔دکھ کی زندگی گزار رہے ہوں گے جہنم میں خدا تعالیٰ کوئی پرواہ ہی نہیں کرے گا۔یہ ہیں لَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ (ال عمران: ۷۸) کے معنے۔اور تیسری بات انہیں پاک نہیں ٹھہرائے گا۔یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو پاک سمجھتا ہے۔پاک ٹھہراتا ہے یا نہیں حتمی فیصلہ کا اعلان اس زندگی میں خدا تعالیٰ نہیں کرتا کیونکہ اس نے کہا ہے کہ دعائیں کرو تو بہ کرو۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر : ۵۴) جن ط