خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 130
خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۰ خطبہ جمعہ ۵ /جون ۱۹۸۱ء قبول ہوجانا، یہ اور چیز ہے اور اس کے بندے کے لئے ہر اس موقع پر جب وہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اللہ کا۔وہ در کھول دیا جانا، یہ اور چیز ہے۔زمین و آسمان کا فرق ہے ان میں۔پس قبولیتِ دعا کے نشان سے کافر ، فاسق اور ظالم کو محروم کیا جائے گا۔صرف اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے اس کے متعلق میں بات کر رہا ہوں۔یہ میں بار بار واضح کرتا ہوں بعض لوگ سمجھیں گے کہ بہت ساری اور باتیں ہیں ان کو چھوڑ گئے ان میں سے بھی شاید چھوڑ جاؤں لیکن جو میرا مضمون ہے اس کے لئے میں نے بعض چیزوں کو منتخب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (ال عمران : ۷۸ ) - جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں (اور قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ ایک عہد فطرتِ انسانی سے بھی لیا گیا ) تھوڑی قیمت لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی نعماء کے مقابلہ میں دنیوی نعمتوں کو ترجیح دیتے اور انہیں قبول کر لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اور اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان پر نظرِ التفات ڈالے گا۔قیامت کے دن انہیں پاک نہیں ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے۔اس آیت میں سے میں مندرجہ ذیل باتیں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات نہیں کرے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس دنیا میں کثرت سے ان سے بات کرے گا لیکن اس دنیا میں خدا تعالیٰ اصلاح کا دروازہ اور واپس اس کی طرف لوٹ آنے کی جو راہ ہے۔وہ بند نہیں کرتا۔اس واسطے غیر مسلم کو جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔عیسائی ہے ، ہندو ہے، بدھ مذہب ہے، پارسی ہے، یہودی ہے، وغیرہ وغیرہ۔کبھی ان کو سچی خواب آ جاتی ہے۔ایسی کہ ان کا دماغ سوچنے پر مجبور ہوجاتا کہ یہ بات سوائے عَلامُ الْغُيُوبِ کے مجھے کوئی نہیں بتا سکتا تھا، مجھے اس کی طرف جانا چاہیے۔نشان اس کو دکھا دیا کہ میری طرف آؤ۔یہاں قیامت کے دن کا جو ذکر کیا یہ