خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 117
خطبات ناصر جلد نهم ۱۱۷ خطبه جمعه ۲۲ مئی ۱۹۸۱ء ہے وہ ذمہ دار ہے وہ آپے کرے گا۔جو میری ذمہ داریاں ہیں وہ میں پوری کر دوں گا۔اس واسطے محاسبہ کیا کر و روز صبح اٹھ کے، شام کو سونے سے پہلے، جماعت کے ہر فرد کو عموماً اور جماعت کے ہر کارکن اور معلم اور مبلغ کو خصوصاً یہ محاسبہ کرنا چاہیے کہ جو دن گزرا، جورات گزری، دن اور رات کی وہ ذمہ داریاں ہم نے پوری کی ہیں یا نہیں۔خدا کرے آپ پوری کرنے والے ہوں اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کرنے والے ہوں لیکن اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ ہی ذمہ دار ہیں کوئی اور ذمہ دار نہیں۔جو میری ذمہ داریاں ہیں میں آپ کی خاطر خدا تعالیٰ کی لعنت اپنے سر پر نہیں لینے کے لئے تیار، میں تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو لینے کے لئے یہاں بیٹھا ہوں یہی مسند خلافت پر اور ہر قربانی بشاشت سے۔میں تو قربانی سمجھتا ہی نہیں۔میری تو خدا تعالیٰ نے طبیعت بچپن سے ایسی بنائی ہے کہ ۴۷ء میں جب گولیاں، مسجد مبارک کی چھت کے اوپر ہم ہوتے تھے ہمارے سروں کے اوپر سکھوں وغیرہ کی گولیاں گزرا کرتیں شوں کر کے اس وقت بھی ہم ہنس رہے ہوتے تھے ان گولیوں کی چھاؤں میں کبھی پرواہ ہی نہیں کی ، ڈر ہی کوئی نہیں مجھے۔مجھے یہ بھی نہیں پتہ ڈر کہتے کسے ہیں لیکن مجھے یہ پتا ہے کہ خشیت کسے کہتے ہیں ، خدا کی خشیت جو ہے وہ کسے کہتے ہیں اور مجھے یہ پتہ ہے کہ جس کے دل میں خدا کی خشیت نہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔یہ ساری دنیا اور اس کی طاقتیں اور تم لوگ جو ہو جہاں تک میرا تعلق ہے ایک مرے ہوئے کیڑے کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔جہاں تک میری ذمہ داری ہے میں تمہیں ساتویں آسمان پر دیکھنا چاہتا ہوں۔یہ دو چیزوں کا فرق سمجھ لو اور اپنی ذمہ داریوں کو نیا ہو۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )