خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 116
خطبات ناصر جلد نہم ۱۱۶ خطبه جمعه ۲۲ مئی ۱۹۸۱ء کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں میں اس عظیم غلبہ اسلام کے منصوبہ کا اس قدر پیار پیدا کرے کہ جو ذمہ داری آپ پر پڑ رہی ہو خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور فضلوں کی وجہ سے اور اسی رحمت کا ایک حصہ خود پھر واپس خدا کے حضور آپ نے پیش کرنا ہے۔آپ بشاشت کے ساتھ اور مسکراتے چہروں کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں جو میرے ساتھ آپ کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اپنے خدا سے آپ نے ایک معاہدہ کیا اس معاہدہ کو آپ پورا کر سکیں اور پورا کریں اور آئندہ پہلے سے زیادہ فضلوں اور رحمتوں کے آپ وارث بنیں اور آسانی کے ساتھ اور سہولت کے ساتھ خدا کے اس منصوبہ کے، جماعت احمدیہ کے کام چلتے چلیں اور بڑھتے چلیں اور وہ دن جلد آئیں جب اسلام حقیقتاً نوع انسانی کے دل جیتنے میں کامیاب ہو جائے اور نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔جو کارکن ہیں، میں صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں کو بھی یہ تنبیہ کر دوں جو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ہے اور میں بڑا ہی ایک عاجز اور نالائق غلام ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں سوچ سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم ہو اور میں اسے نظر انداز کر دوں۔آپ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں جس رکابی میں ، پلیٹ میں بال آیا ہو اس میں کھانا نہ کھاؤں۔جس فرد میں نفاق کا یا فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ کا یاستی کا یا اپنے فرائض ادا کرنے میں غفلت کا بال آگیا میرے نزدیک تو وہ ایسی لکڑی ٹوٹی ہوئی بھی نہیں جو جلانے کے قابل ہو سکے استعمال۔اسے میں فارغ کر دوں گا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور میں آپ کو فارغ کرنے کے بعد اپنے محمد کے قدموں میں گروں گا اور کہوں گا کہ میں نے تیرا حکم پورا کر دیا اب جو تیرا منصو بہ ہے دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کا اس کے لئے اپنے رب سے کہو کہ وہ سامان پیدا کرے۔اگر سارے مبلغین کو ایک دن مجھے فارغ کرنا پڑا اس وجہ سے مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں ہوگی۔نہ میرا کام نہ میری ذمہ داری، اس کا کام ہے وہ آپے کرے گا۔جس نے یہ کہا تھا کہ جس کے اونٹ ہیں وہ اونٹ مانگ رہا ہے، جس کا خانہ کعبہ ہے وہ آپ ہی اس کی حفاظت کا سامان کرے گا۔میرے دل میں میں سمجھتا ہوں کہیں زیادہ ایمان ہے۔میں تو بڑی بشاشت سے کہوں گا کہ جو خدا کا کام