خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 98
خطبات ناصر جلد نهم ۹۸ خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۱ء و یہ وَ كَفَى بِهَ اثْمًا مبينا کھلا کھلا گناہ ہے۔ایک دوسرے کو یا اپنے آپ کو متقی اور پر ہیز گار قرار دینا ، خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا اور اِتھ مبین ہے، ایک ایسا گناہ کرنا ہے جو چھپی ہوئی بات نہیں ، کھلی بات ہے۔اس واسطے کہ پاک اور متقی کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو خدا کی نگاہ میں پاک اور متقی ہو۔پاک اور متقی کے معنی اسلامی تعلیم کی رو سے یہ نہیں کہ کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کو پاک اور متقی قرار دے دے۔پاک اور متقی کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی شخص پاک اور متقی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کو پاک اور متقی قرار نہیں دیتا اور ایک شخص یا ایک گروہ یا ایک علاقہ یا ساری دنیا مل کے کسی کو پاک اور متقی قرار دے تو وہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے اور کھلم کھلا گناہ ہے۔بہت سی اور آیات ہیں جن میں اس مضمون کے بعض دوسرے پہلو بیان کئے گئے ہیں۔ان میں سے میں نے تین کو اٹھایا ہے۔اس واسطے انسان کا جو کام ہے وہ انسان کو کرنا چاہیے اور انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرے کبھی تکبر نہ کرے۔کبھی کسی سے خود کو بڑا نہ سمجھے۔کبھی گھمنڈ اور فخر اس کے دل میں پیدا نہ ہو۔نہ دُنیوی برتریاں ، جو دنیا کی نگاہوں میں ہیں ان کے نتیجہ میں ، نہ دین میں جب دین خدا اسے عطا کرے، نا سمجھی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کی تلاش کرنے کی بجائے جو دعا کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے نتیجہ میں ہوتے ہیں خود ہی فیصلہ کرنا شروع کر دے کہ میں یا فلاں لوگ جو ہیں وہ پر ہیز گار اور متقی ہیں۔ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھنے والے ہوں اور خدا تعالیٰ کی آنکھ میں ہمیشہ پیار دیکھنے والے ہوں کبھی غصہ اور نفرت اور حقارت اس کی نگاہ میں ہماری آنکھ نہ دیکھے۔آمین۔خطبہ ثانیہ سے قبل حضور نے فرما یا :۔میں نے اس وقت تین آیتیں لے کر کچھ باتیں کی ہیں۔یہ ایک لمبا مضمون ہے جس کی تمہید میں بیان کر رہا ہوں۔جو خطبہ میں نے دیا اسلام آباد میں اس میں اس مضمون کی تمہید کے طور پر میں نے یہ بات بتائی تھی کہ لَهُ الْحُكْمُ (الانعام : ۶۳) حکم جو ہے، فیصلہ جو ہے وہ خدا کا جاری ہوتا