خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 94
خطبات ناصر جلد نهم ۹۴ خطبہ جمعہ ۸ رمئی ۱۹۸۱ء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا انذار ہے آپ نے تنبیہ کی اور ڈرایا ہے۔یہ جو انسان کے دل میں تکبر پیدا ہوتا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔دُنیوی لحاظ سے دولت، اقتدار، جتھہ، یہ خیال کہ کوئی انسان ایک اچھی قوم میں پیدا ہوا ہے، جاٹ ہے ،مغل ہے یا اور کوئی اس قسم کی ذات ہے جسے دنیا بڑا سمجھتی ہے جسے اللہ بڑا نہیں سمجھتا۔تکبر علم کی وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے۔بعض انسان خدا کی دی ہوئی فراست کے نتیجہ میں جب علمی میدانوں میں آگے نکلتے ہیں متکبر بن جاتے ہیں۔جو ان سے کم علم ہیں ان کے ساتھ حقارت کا سلوک کرنے لگ جاتے ہیں۔دُنیوی طاقتیں جو ہیں وہ دُنیوی لحاظ سے کمزوروں کی عزت نہیں کیا کرتیں اور بڑے فخر سے اپنے آپ کو بلند مجھتی ہیں، غرضیکہ بہت سی وجوہات ہیں جن کے نتیجہ میں انسان عاجزانہ راہوں کو چھوڑ دیتا اور متکبرانہ طریقوں کو اختیار کر لیتا ہے۔ایک وجہ دین اور مذہب بھی بن جاتا ہے اور اسی کے متعلق اس وقت میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ہمارے عقیدہ کے مطابق مہدی اور مسیح علیہ السلام آگئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم انہیں شناخت کریں۔بدعات سے پاک جو اسلام انہوں نے ہمارے سامنے رکھا اسے قبول کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو نور اور جوحسن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی نوع انسان پر عام طور پر اور ہر فرد واحد پر خصوصاً جو احسان ہے اس سے ہمیں متعارف کرایا۔خدا تعالیٰ کو دنیا بھول چکی تھی۔خدا تعالیٰ کی صفات سے نا آشنا ہو چکی تھی ، شناخت کروائی خدا تعالیٰ کی ، صفات کی۔ہمیں اس مقام پر کھڑا کیا کہ ہم ایک زندہ خدا سے تعلق پیدا کر سکیں اور اپنی زندگی میں زندہ خدا کی زندہ طاقتوں کا مشاہدہ کرسکیں۔ہم میں سے بہتوں کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی توفیق ملی خدا کے فضل سے۔جماعت احمدیہ میں بھی بعض دفعہ میں دیکھتا ہوں بعض لوگ اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ کا فضل ان پر ہوا عاجزانہ راہوں کو چھوڑ کر متکبرانہ راہوں کو اختیار کر لیتے ہیں۔جہاں تک روحانی پاکیزگی اور تقویٰ کا سوال ہے ظاہر ہے کہ روحانی طور پر پاکیزہ وہ نہیں جو اپنے آپ کو پاکیزہ سمجھتا ہے۔روحانی طور پر پاکیزہ وہ ہے جسے خدا پاکیزہ قرار دیتا ہے اور یہ فیصلہ کرنا کہ متقی کون ہے اور کون نہیں