خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 89 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 89

خطبات ناصر جلد نهم ۸۹ خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ہے تو ایک مشرک کے متعلق بھی تم نہیں کہہ سکتے تو جو خدا کا حکم ہے وہ اپنی زندگیوں میں جاری کرولا مُعَقِّبَ لِحُكمه۔اور وَ هُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (الرعد: ۴۲) آج پھر اس پر میں غور کر رہا تھا تو وَ هُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ کی یہ تفسیر سامنے آئی کہ چودہ سو سال سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصوبہ کو نا کام کرنے کے لئے کروڑوں منصوبے بنائے گئے اور وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ ساتھ ساتھ ان کو نا کام کرتا چلا گیا۔بڑی جلد ان کو پکڑا گیا ان پر گرفت ہوئی۔کسری نے ایک منصوبہ بنایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ( تاریخ نے اسے محفوظ رکھا ہے اور یاد رکھنے کی بات ہے ) اس وقت کسری کی ایران میں جو حکومت تھی وہ بڑی طاقتور تھی۔دنیا کی دو بڑی طاقتور حکومتوں میں سے ایک تھی دوسری قیصر کی حکومت تھی۔جس طرح کسی زمانہ میں سمجھا جاتا تھا۔امریکہ اور روس دو بڑی طاقتیں ہیں۔اب حالات بہت بدل گئے ہیں لیکن ایک وقت میں یہی بڑی دو سمجھی جاتی تھیں۔کسری نے اپنے درباریوں کو اکٹھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے معا بعد اور ان کو کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا وصال ہو گیا اور مسلمان اس وقت ابتری اور انتشار کی حالت میں ہیں۔یہ وقت ہے کہ اگر ایک کاری ضرب لگائی جائے تو اسلام کو کلیتاًا صفحۂ ارض سے مٹایا جا سکتا ہے اور کوئی طاقت اس کاری ضرب کے مقابلہ میں ان کی حفاظت کرنے والی نہیں ( اور خدا تعالیٰ نے اس کے منہ سے ایک عجیب فقرہ نکلوایا ) سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ ان کو بچالے۔اس نے کہا مشورہ دو میں کیا کروں کاری ضرب لگانا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا ہماری سرحدوں پر جو عرب قبائل تھے ، کچھ بت پرست تھے، کچھ عیسائیت کو قبول کر چکے تھے ، آپ کے بڑے احسان رہے اسلام کے آنے سے پہلے ان قبائل پر۔ہمارے وہ غلاموں کی طرح تھے دربار میں آتے تھے گھٹنے ٹیکتے تھے آپ کے سامنے۔ان سرداروں کو بلائیں اور ان سے کام لیں کیونکہ وہ حدیث العہد ہیں ان کے اسلام پر لمبا عرصہ نہیں گزرا۔نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں ان کی تربیت کوئی نہیں ہے۔وہ قابو آ جائیں گے آپ کے۔اس نے کہا بڑا صحیح مشورہ ہے۔اس نے پیغام بھیجے۔چھ اور سات سو کے درمیان عرب سردار اس کے دربار میں اکٹھے ہوئے۔پس ان کا اندازہ صحیح تھا اور ان