خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 90

خطبات ناصر جلد نهم ۹۰ خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء سے اس نے مشورہ کیا۔ان کو روپے دیئے ، ان کو ہتھیار دیئے اور کہا اس طرح جا کے ارتداد کر دو اور اس قدر عظیم یہ فتنہ تھا اسلام کے خلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معا بعد کہ بات اس کی سچی تھی کہ دنیا کی کوئی طاقت اس وقت اسلام کو نہیں بچا سکتی تھی سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ اسلام کی حفاظت کرتا۔اتنے بڑے فتنہ کو مٹانے کے لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف اٹھارہ ہزار کی فوج تیار کر سکے اور ہر معرکہ نئی فوج کے ساتھ ستر اسی ہزار کی نئی فوج کے ساتھ ہوا۔خیر وہ لمبی تفصیل ہے اور ناکام ہو گیا۔ابھی جب وہ گھتم گتھا ہورہے تھے مسلمانوں کے ساتھ تو قیصر نے یہ سمجھا دوسرا منصوبہ بنایا جائے کہ یہ تو ادھر پھنسے ہوئے ہیں پیچھے سے ضرب لگاؤ۔آگے بڑھا لیکن اس کو معلوم ہو گیا۔پہلی دو تین جنگوں میں کہ میرے اندازے غلط نکلے۔یہ اتنے کمزور نہیں کہ میں ان کو آسانی سے شکست دے سکوں۔پھر اس نے اکٹھا کیا دربار میں اپنے مشیروں کو اور کہا کہ میں ایک ایسی ضرب لگانا چاہتا ہوں کہ مدینہ میں بھی کوئی مسلمان نہ رہے۔اس منصو بہ کے لئے تین لاکھ کی فوج تیار کی گئی جو اس محاذ پر حملہ آور ہوئی۔صرف چالیس ہزار مسلمان ان کے مقابلے میں آئے۔جب صف آرائی ہوئی تو انہوں نے پچھتر پچھتر ہزار کے یونٹ بنا کے چارحصوں میں محاذ جنگ کو تقسیم کر کے مستقل کمانڈرز کے ماتحت انہیں کر دیا اور ہر چھتر ہزار کے مقابل صرف دس ہزار مسلمان تھے لیکن خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ میں نے فیصلہ کر دیا ہے۔نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا یہ جیتیں گے۔وَاللهُ يَحكُم حکم خدا کا جاری اور کامیاب ہوتا ہے۔لَا مُعَقِّبَ لِحُکمہ انجام قیصر کی فوجوں کی شکست۔یرموک کے میدان میں ستر ہزار لاشیں چھوڑ کر قیصر کی تین لاکھ فوج کا بھاگ کھڑا ہونا ثابت کرتا ہے لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِہ خدا کے حکم کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔اب آج کے زمانہ میں چودہ سو سال ہمارے بزرگ جو کہتے آئے کہ اس زمانہ میں جس کو آخری زمانہ کہا گیا ہے یہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔نَاتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا اپنے عروج کو پہنچے گا اور پورا ہوگا اور نوع انسانی کو اسلام کا حسن اور اسلام کا احسان اور اسلام کا نور اپنے احاطہ میں لے گا اور ایک خاندان کی طرح ان کو