خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 87
خطبات ناصر جلد نهم ۸۷ خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۱ء مضبوطی سے پکڑے رہو گے کامیاب ہو گے اسے چھوڑ کر ادھر ادھر جانے کی ضرورت نہیں۔قرآن۔قرآن۔قرآن۔اس وقت اللہ تعالیٰ کا یہ حکم جاری ہوا کہ آہستہ آہستہ بتدریج اسلام غالب ہوتا چلا جائے گا۔وقتی طور پر اور بعض مخصوص خطہ ہائے ارض میں جو کمزوری بھی پیدا ہوئی ہے اس کے باوجودا گر آپ غور کریں تو آپ کو بتدریج ترقی ، ارتقاء نظر آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو فیج آغوج کا زمانہ تھا اور اسلام کا انتہائی تنزل کا زمانہ جسے ہم کہتے ہیں اس میں بھی لاکھوں بزرگ اولیاء اسلام کے اندر پیدا ہور ہے تھے۔تو ظاہر ہے کہ جس وقت لاکھوں مسلمان بھی نہیں تھے ، اس وقت لاکھوں اولیاء کا سوال تو پیدا نہیں ہوتا تھا۔پھیلاؤ ہو رہا ہے۔اس پھیلاؤ میں ( جس طرح Magnifying Glass سے آپ چیز دیکھتے ہیں ) بعض نقائص جو تھے وہ زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آئے اس میں کوئی شک نہیں۔نہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے اور نہ ہمیں کوئی حجاب ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں ٹھیک ہے لیکن جو خو بیاں تھیں وہ بھی اسی طرح وسعت کے ساتھ ہمارے سامنے آگئیں اور ان کا پلہ بھاری ہے۔افریقہ کو لے لو ایک مثال، وہاں کی بدعات سے متاثر ہو کر ایک خطہ افریقہ میں مسلمانوں نے دریا کی پرستش شروع کر دی جس طرح نیل“ کی پرستش کی گئی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان فودی رحمتہ اللہ علیہ کو پیدا کر دیا اور حضرت عثمان فودی رحمتہ اللہ علیہ نے ( یا ان کے بھائی یا بیٹے نے ) لکھا ہے کہ اولیائے خطہ افریقہ (جس کے ساتھ ان کا تعلق تھا ) کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ یہ خبر دی کہ اس علاقہ میں ایک مجدد پیدا ہوگا اور بڑی نصرت خدا کی ملی ان کو قرآن کریم نے وعدہ دیا تھا اَنْتُمُ الْأَعْلَونَ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِینَ (ال عمران : ۱۴۰) غیروں کی اوراپنوں کی تلواریں میانوں سے باہر نکل آئیں، مٹھی بھر چند آدمی تھے اس وقت ان کے ساتھ۔بعض جگہ ان کو تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں ، جانیں بھی دینی پڑیں ، وقتی طور پر شکست بھی کھانی پڑی، پیچھے بھی ہٹنا پڑا۔( یہی پوری تصویر ہے اسلام کی لیکن آخری فتح ان کی ہوئی اور پھر انہوں نے تمام بدعات کو اپنے علاقے سے مٹا دیا اپنے اس مقصدِ بعثت کے حصول میں کامیاب ہوئے اور خالص اسلام کو انہوں نے قائم کیا لیکن پھر بدعات آگئیں پھر اور آگئیں۔نئی نسل اپنے عظیم ورثہ کو بھول