خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 60 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 60

خطبات ناصر جلد نهم ۶۰ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۸۱ء پہلے ہو سکتا تھا معاہدہ مگر کرم الہی صاحب ظفر نے کہا نہیں میں ۱۲ جنوری کو کروں گا اور ہمارا خیال تھا کہ اس کے بعد ایک مہینہ ٹھیکیدار کو لگے گا۔وہاں بجلی کا کنکشن لینا ، پانی لینا ، بعض نالیاں پانی کی بدلنے والی تھیں۔ہم نے مختلف قطعے تین آدمیوں سے لئے تھے ہر ایک کے لئے علیحدہ نالی آرہی تھی ان نالیوں کو اٹھا کے دوسری جگہ لے کے جانا اس قسم کے چھوٹے چھوٹے کام ہمارا خیال تھا ایک مہینہ لگے گا اور فروری کے شروع میں کام شروع ہو جائے گا لیکن وہاں ہوگئی Strike ( سٹرائیک ) ہر ہفتے میں نے ان کو کہا تھا مجھے خط لکھیں مجھے خط لکھ رہے تھے کہ سٹرائیک نہیں دور ہوئی۔کام نہیں شروع ہوا ۱۲ مارچ کو ان کا خط آیا کہ سٹرائیک دور ہو گئی ہے اور ٹھیکیدار کہتا ہے کہ آٹھ دس دن کے اندر کام شروع کر دوں گا۔اب تار آئی ہے کہ تعمیر شروع ہو گئی الحمد للہ۔آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو توفیق دے نیز اس قوم کو توفیق دے کہ کام چھوڑ کر اپنا نقصان نہ کیا کریں۔اس کا معاہدہ یہ ہے کہ دس مہینے زیادہ سے زیادہ گیارہ مہینے میں مسجد اور رہائشی مکان جو ہے مشن ہاؤس جس کو ہم کہتے ہیں وہ تیار کر دے گا۔انشاء اللہ تیار ہو جائے گا یعنی اتنے سامان ہیں ان کے پاس۔یہ جو دو چار ہفتے کی تاخیر ہوئی اس نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ بڑے مہذب بھی ہیں اور سٹرائیک بھی کرتے ہیں؟ اس واسطے کہ یہ مہذب دنیا اپنے عوام کو یہ بات منوا نہیں سکی کہ یہ تہذیب ان کے حقوق کی حفاظت کر رہی ہے اور ان کے آرام اور سہولت کے سامان پیدا کر رہی ہے۔تبھی ان کو لڑنا پڑتا ہے نا اپنے حقوق کے لئے جس کے نتیجے میں اربوں کھربوں ڈالر اور پونڈ کا نقصان ہو رہا ہے ساری دنیا میں۔انگلستان میں سٹرائیک ہولاری چلانے والے ڈرائیوروں کی تو سارا انگلستان خاموش کھڑا ہو جاتا ہے اور سامان ادھر سے ادھر نہیں جا رہا۔وہاں تو ( یہاں تو ہمارے چھوٹے چھوٹے کارخانے ہیں) ایک ایک ٹیکسٹائل مل کپڑے بنانے کا کارخانہ ہے اس میں دس دس ہزار، پندرہ پندرہ ہزار ہیں ہیں ہزار مزدور کام کر رہا ہے۔دو دو مہینے کام رکا ہوا ہے اور جھگڑا چل رہا ہے مہذب دنیا میں تم نے ایسا معاشرہ کیسے برداشت کر لیا۔اگر مہذب دماغ تھا، اگر پڑھا ہوا ، اگر ہدایت یافتہ دماغ تھا اس حصّہ انسانیت کا تو یہ برداشت کیسے کر لیا کہ اتنا نقصان اپنے ملکوں کو پہنچا دو لیکن نقصان پہنچ رہا ہے۔