خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 61

خطبات ناصر جلد نهم ۶۱ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۸۱ء میں ان کو سمجھاتا ہوں جب بھی باہر جاتا ہوں دورے پر ( کہ جب تک ) اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کرو گے یہ مصائب جو تمہارے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ان سے نجات نہ پاسکو گے۔روحانی اور اخلاقی لحاظ سے تو وہ دیوالیہ ہیں ہیں۔وہ آپ اسے مانتے ہیں لیکن مادی لحاظ سے بھی تم دیوالیہ ہو عملاً۔اور یہ آپ نے جا کے سمجھانا ہے۔اس واسطے میں نے بڑا سوچا ایک منٹ کے لئے بھی ہم سو نہیں سکتے اگر ہم اپنی ذمہ داری سمجھنے والے ہوں۔تو چوکس اور بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے رہو تو بہ کرو تا حسنات سے جو بڑھ گئی ہیں تمہاری سیئات وہ خدا تعالیٰ معاف کر دے تو بہ کے نتیجہ میں۔اور دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل سے ایسے سامان پیدا کرے کہ جو ہم حقیر سے اعمال ، اعمالِ صالحات اس کے حضور پیش کر رہے ہیں وہ عظیم وجود جو ہے وہ ہستی اللہ جل جلالۂ وعزاسمہ جس نے سارے جہانوں کو پیدا کیا اور اس کی بادشاہت اور حکم ان میں چل رہا ہے وہ ہم عاجزوں کے اعمال کو قبول کرلے اور دعائیں کرو کہ اے خدا ! ہمارے حقیر جو اعمال ہیں وہ تو قبول بھی کر لے تب بھی ہم اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح نباہ نہیں سکتے جب تک تو زائد نہ دے جس کا تو نے وعدہ دیا ہے وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ تب آپ اس قابل ہوں گے کہ وہ ذمہ داریاں نباہ سکیں جو آپ کے کندھے پر ڈالی گئی ہیں۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جلد صحت دے ( کام تو میں اب بھی کر رہا ہوں ) تا اس سے بھی زیادہ کام کروں۔آمین ( روزنامه الفضل ربوه ۵ را پریل ۱۹۸۱ء صفحه ۲ تا ۴ )