خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 490 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 490

خطبات ناصر جلد نهم ۴۹۰ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۸۲ء اور فتیح ، تو اس چھوٹے سے فقرے میں ان اخلاق کی بنیادی بات ہمیں بتائی گئی جن کا تعلق ” نہ کرنے کے ساتھ تھا۔ہر وہ بات ، ہر وہ فعل جس کا کوئی نتیجہ ہماری زندگی میں خوشکن نہیں نکلتا وہ لغو میں شامل ہو جاتا ہے۔فتیح باتیں فتیح اعمال جو ہیں ان کا تعلق لغو کے ساتھ ہے۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ انسان کو ” کچھ کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، نہ ” کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔اس واسطے اچھے اخلاق کی بنیاد اس بات پہ رکھی کہ ایک مومن، مسلم احمدی کے اوقات ضائع نہیں کئے جائیں گے۔ایسی باتیں کرنا جن کا کوئی فائدہ نہ ہو، گپیں لگانا، وقت ضائع کرنا یہ تمام چیزیں لغو کے اندر آ جاتی ہیں۔اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی و آلہ وسلم کی عظیم ہستی کا ایک بہترین نمونہ ، اُسوہ ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شکل میں آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے الہاماً آپ کو کہا اَنْتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِئ لَا يُضَاعُ وَقْتُه که تیر وقت ( اور تیرے میں وہ تمام اوقات شامل ہیں جن کا تعلق آپ کی جماعت کے ساتھ ہے ) ضائع نہیں کیا جائے گا، ضائع نہیں ہوگا اس کے دو معنی ہیں۔تیراے ماننے والے اچھے اخلاق کے حامل ہوں گے اور کوئی ایسے عمل نہیں کریں گے نہ کوئی ایسی باتیں کریں گے جو بے فائدہ اور بے مقصد ہوں اور وقت کا ضیاع ان سے ہو رہا ہو اور یہ بشارت دی کہ خدا تعالیٰ کے منشاء اور اس کے احکام کی روشنی میں تیرے ماننے والے خدا تعالیٰ کے حضور جو اعمال پیش کر رہے ہوں گے ان کا نتیجہ نکلے گا اور وہ ضائع نہیں ہوں گے۔اچھا خلق جو ہے وہ ابدی زندگی پاتا ہے جو گندی باتیں، فتیح اعمال ہیں وہ جلد ضائع ہو جاتے اور مرجاتے ہیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ، اب بھی وہی مثال دیتا ہوں۔انسانی تاریخ میں کہیں بھی آخری فتح نفرت اور حقارت کو نہیں ہوئی۔آخری فتح ہمیشہ محبت اور پیار کو ملی ہے۔نفرت، آنا اور حقارت سے پیش آنا یہ سارے گند ہیں جولغو کے اندر شامل ہو جاتے ہیں یعنی جن کا کوئی ایسا نتیجہ نہیں نکلتا جو نتیجہ انسانی زندگی میں، اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والا بھی اللہ تعالیٰ نکالنا چاہتا ہے۔نہ کرنے والی باتوں میں جولغو کی بنیاد سے اٹھیں پھر بہت سی باتیں ہیں ان میں ایک