خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 489
خطبات ناصر جلد نهم ۴۸۹ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۸۲ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکارم اخلاق کے اتمام کے لئے ہوئی تھی خطبہ جمعہ فرمودہ ۷ رمئی ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔میں نے بتایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی وآلہ وسلم کی بعثت مکارم اخلاق کے اتمام کے لئے ہوئی تھی یعنی انسانی زندگی میں تہذیب پیدا کرنا اور حسن پیدا کرنا ، یہ مقصد تھا بعثت محمدی کا، اس مقصد کے لئے قرآن کریم کے سارے احکام ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تہذیب اخلاق کے لئے جو احکام دیئے ہیں وہ دوحصوں پر منقسم ہوتے ہیں۔ایک نہ کرنے کی باتیں ہیں۔ایک کرنے کی باتیں ہیں۔ان دوحصوں پر منقسم ہونے کے بعد پھر تفصیل کے ساتھ وہ تمام احکام ہمیں دے دیئے گئے جن کا تعلق ان تمام قوتوں اور استعدادوں کے ساتھ تھا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے عطا کیں کہ وہ ان کی صحیح نشو و نما کر کے اپنے رب کریم کے اخلاق کا رنگ اپنے پر چڑھا سکے۔(تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللَّهِ ) نہ کرنے والی جو باتیں ہیں ان کا تعلق بنیادی طور پر هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: ٤) سے ہے،لغو سے بچنا، کوئی ایسی بات نہ کرنا، کوئی ایسا کلمہ منہ سے نہ نکالنا، کوئی ایسا کلام نہ سننا، ایسے اعمال بجانہ لا نا جو لغو ہوں۔لغو کے معنی یہ ہیں کہ بے مقصد ہو اور بے فائدہ ہو اور نجس ہو اور گندہ ہو