خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 483 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 483

خطبات ناصر جلد نهم ۴۸۳ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۸۲ء میں سے ادا ہو گا اور یہ سارامل کے قریباً سوالاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔تو ایک ہزار روپیہ مہر سوالا کھ وصیت کی ادائیگی میں تو روک نہیں بنا۔اسی طرح کسی کے متعلق کچھ اور اعتراض بھی پیدا ہوئے مجھے خیال آیا کہ میں وصیت کی وضاحت کر دوں۔اصل چیز ایک ہزار یا دس ہزار نہیں۔اصل چیز ہے اسلامی زندگی گزارنا اور بشاشت کے ساتھ خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے لئے ہر قسم کی جن میں ایک صرف مالی قربانی ہے۔ہر وقت قربانی دینے کے لئے تیار رہنا۔جس دوست نے یہ اعتراض کیا کہ آپ نے نئی شادی میں ایک ہزار روپے مہر رکھا تو وصیت کے اوپر اس کا برا اثر پڑ گیا ان کو میں نے جواب یہی دیا تھا کہ میں نے کسی بھک منگی سے شادی نہیں کی۔تو ایک تو ابھی انہوں نے وصیت نہیں کی ہوئی لیکن میں نے کہا ہے کہ وصیت کر دو۔تو شاید پہلی قسط جو وہ ادا کریں گی وہ ایک ہزار سے بہر حال بڑھی ہوئی ہوگی یعنی پورے مہر سے آگے نکل جائے گی اور اللہ تعالیٰ زندگی دے اور توفیق دے ان کو اسی ہمت کے ساتھ مالی قربانی کرنے کی بھی تو لاکھ تک پہنچ جائے بشاشت سے دیں گی۔یہ جو شیطانی وسوسے دماغ میں آتے ہیں خدا تعالیٰ کی عطا کردہ جو فراست ہے مومن کو چاہیے کہ آپ ہی حل کر لیا کرے۔ایک ایسا نظام جو اپنی عظمتوں کی وجہ سے مثالی بنا تھا اسلام کی خدمت کے میدان میں اس کے اوپر بعض لوگوں کی غلطی کی وجہ سے دھبے پڑ رہے ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ نے مجھے فراست اور ہمت دی۔میں کوشش کروں گا کہ ان دھبوں سے اسے صاف کیا جائے۔اس وقت بنیادی چیز میں جماعت کے سامنے یہ رکھنا چاہتا ہوں کہ نظام وصیت کا ہر احمدی مرد اور عورت سے یہ مطالبہ ہے بلوغت کے بعد کہ وہ مالی میدان میں اس قدر قربانی کرنے والی ہو کہ جو غیر موصی مرد و زن جماعت احمدیہ کے ممبر ہیں ان سے کہیں آگے بڑھ جانے والے ہوں نظام وصیت احمدی مرد وزن سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جہاں تک اوقات کی قربانی یا نفس کی قربانی ہے یعنی زندگی کے جو لمحات ہیں ان کی قربانی ہے وہ غیر موصی سے زیادہ قربانی دینے والے ہوں، نظام وصیت یہ مطالبہ کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ اعلان فرمایا۔بُعِثْتُ لِأُتَيْمَ