خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 452
خطبات ناصر جلد نہم ۴۵۲ خطبه جمعه ۱/۲ پریل ۱۹۸۲ء اس کمال نشو ونما تک پہنچنے میں ہر انسان آپ کے برابر ہے یعنی جس کو جتنی طاقت اور قوت اللہ تعالیٰ نے عطا کی اگر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی طاقتوں کو کمال نشو نما تک پہنچا دے۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پہ پہنچ گیا نا! کہ آپ نے اپنی قوتوں کو کمال نشو و نما تک پہنچایا اور اس شخص نے اپنی قوتوں کو کمال نشوونما تک پہنچایا۔اس کے باوجود اس حقیقت کو جانتے ہوئے کہ قوت اور استعداد میں فرق ہے لیکن اس چیز میں تو فرق نہیں رہا نا کہ ہر دو نے جو بھی خدا نے طاقت اور استعداد دی تھی اس کو نشوونما کے لحاظ سے کمال تک پہنچا دیا۔جتنا پہنچادیا اس سے آگے جاہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ نے اسے طاقت ہی نہیں دی۔اس نے ایثار اور قربانی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے ، اس نے خدا تعالیٰ کی محبت کو پانے کے لئے ان كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) اگر خدا تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو اتباع نبوی ضروری ہے صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کی کامل اتباع کی اور دوسری جگہ اس کی تفصیل اور تفسیر یوں فرمائی قرآن کریم میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا۔إنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (یونس:۱۲) جو وحی میرے پر نازل ہو رہی ہے میں صرف اس کی اتباع کرتا ہوں اور انسان کو کہا اگر تو اس چیز میں میری اتباع کرے گا کہ جو وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہی ہے صرف اس کی اتباع کر، تو جو اللہ تعالیٰ نے تجھے طاقتیں اور صلاحیتیں دی ہیں وہ کمال تک پہنچ جائیں گی اور ہر شخص جب اپنی ساری صلاحیتوں کو کمال نشوونما تک پہنچا دے گا تو ہر شخص اس بات میں برابر ہو جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ نے بھی اپنی صلاحیتوں کو کمال نشو ونما تک پہنچایا اور ہر بڑے چھوٹے دوسرے انسان نے جتنی جتنی طاقت اس کو تھی اپنی طاقتوں کو کمال نشو و نما تک پہنچایا بشر ہونے کے لحاظ سے، بشری طاقتوں کی نشو و نما کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔ہر وہ شخص جو ایسا کرتا ہے وہ اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق خدا تعالیٰ کے پیار کے کمال کو حاصل کر لیتا ہے۔جتنی جھولی خدا نے اسے دی وہ بھر جاتی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقتوں کی وسعت کا ہماری عقل نہیں اندازہ کرتی ، کرتی نہیں۔بڑا ہی میں نے سوچا، اس نتیجے پہ پہنچا ہوں علی وجہ البصیرت