خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 32

خطبات ناصر جلد نهم ۳۲ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۱ء اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہے۔جب وہ اپنے بندے سے راضی اور خوش ہو جاتا ہے۔اس جنت کا بھی بہترین بدلہ ملے گا۔جنت میں جانے والے کم درجہ کے متقی اور درمیانے درجہ کے متقی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان بھی ہے اور ہر استعداد کے لوگ ترقی کرتے چلے جائیں گے۔اس واسطے وہاں بھی درجات ہیں وہاں بھی ترقیات ہیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جنت میں مرنے کے بعد جو زندگی ہے وہ ایک نکمی زندگی ہے وہاں عمل اور مجاہدہ نہیں۔یہ تصویر اسلام نے ہمارے سامنے پیش نہیں کیا۔اسلام کہتا ہے کہ مرنے کے بعد جو زندگی ہے اس میں عمل بھی ہے، مجاہدہ بھی ہے ، کوشش بھی ہے لیکن امتحان نہیں۔یعنی یہ خطرہ نہیں کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد کسی امتحان میں ناکام ہونے کی وجہ سے انسان کو باہر بھی نکالا جا سکتا ہے لیکن اس زندگی میں یہ خطرہ ہر آن موجود ہے۔اسی وجہ سے کہا گیا کہ دعا کرتے رہو کہ خاتمہ بالخیر ہو کہ مرتے دم تک انسان اس راہ پر چل رہا ہو۔جو راہ اللہ تعالیٰ کو پسند اور پیاری ہے جو راہ اس کی رضا کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہے۔تو بنیادی چیز جو یہاں بتائی گئی وہ ثبات قدم پر قائم رہے۔صبر سے کام لیا اور استقامت دکھائی۔اس کے بعد جو باتیں بتائی ہیں ان کا تعلق بھی اسلامی شریعت کے سب احکام کے ساتھ ہے۔بنیادی بات ، اس صبر کی کوشش کے بعد یہ ہے کہ اقاموا الصلوۃ اللہ تعالیٰ نے فرما یا حکم تو ہے میرا کہ میری رضا کی طلب میں ثابت قدم رہو لیکن اپنی کوشش سے ایسا کرنا تمہارے لئے ممکن نہیں۔اس لئے نماز کو اور دعا کو مضبوطی سے پکڑ و اقاموا الصلوة - الصلوة کے معنی فرائض نمازیں، جو ہم پڑھتے ہیں پانچ وقت دن میں اپنی شرائط کے ساتھ وہ بھی ہے اور الصلوۃ کے معنے دعا کے بھی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو پانچ وقت کی نماز ہے وہ تو ہر وقت کی دعا کے لئے ستون کا کام دیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی نہ ہو تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اگر میری رضا کی طلب میں ثابت قدم رہنا چاہتے ہو تو محض اپنے زور پر ، اپنے اعمال پر، اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہ کرنا تمہیں ثبات قدم کے لئے میری مدد کی ضرورت ہے۔اس کے لئے مجھ سے دعائیں مانگو تا کہ جو تمہیں میں دینا چاہتا ہوں تمہاری زندگیوں میں تم اس کو حاصل کر لو۔دوسری بات یہ بتائی کہ ثبات قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں جو ہے اس کے معنی یہ ہیں