خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 442
خطبات ناصر جلد نهم ۴۴۲ خطبہ جمعہ ۱۹ / مارچ ۱۹۸۲ء ور لی زندگی میں نئے سے نئے علوم نکالتے رہیں اور علم میں زیادتی ہوتی رہے آپ کی اور اگر آپ دعا کریں گے اور غور کریں گے قرآن کریم پر اور اللہ تعالیٰ کی صفات پر ،اس کی صفات کے جلووں پر تو علم کی تو انتہا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ ہر آن اللہ تعالیٰ کے جلوے اپنی مخلوق پر ظاہر ہورہے ہیں اس لئے کوئی چیز بھی ایسی نہیں اس مادی دنیا میں کہ جس کے خواص غیر محمد ود نہ ہوں۔اور جواب نئی تحقیق شروع ہوئی ہے ایک جگہ آ کے ٹھہر جاتی ہے۔ایک نسل کی ، پہلے بھی میں نے مثال دی ہے بڑی واضح ہے اس لئے میں دہرا تا رہتا ہوں۔ایک وقت میں ایک نسل نے کہا افیم میں چودہ است ہیں۔اگلی نسل نے کہا افیم میں اٹھائیں " است ہیں۔اس سے اگلی نسل نے کہا افیم میں چوالیس است ہیں اور اسی طرح وہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا نوع انسانی قیامت تک کوشش کرتی ہے شخص کے ایک ذرے کے جوخواص ہیں وہ ان پر حاوی نہیں ہوسکتی۔اور انسان کا وہ حصہ جو Unfortunately بد قسمتی سے اپنی خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے محروم بھی ہے، جو حقیقی رحمتیں ہیں لیکن لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ الَّا مَا سَعَى (النجم :۴۰) کے وعدہ کے نتیجہ میں جن میدانوں میں انہوں نے کوشش کی ان میں ترقیات بھی انہوں نے کیں، وہ آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کی یہ Disvcoveries ( ڈسکوریز ) جو ہیں ، نئی سے نئی معلومات جو ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو حقیقت ہمارے سامنے رکھی ، اس کو ظاہر کر کے ہمارے سامنے پیش کر رہی ہیں۔قرآن کریم نے کہا تھا کہ شہر میں تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔معترض نے اعتراض کیا تھا یہ تو بڑا نا معقول ہے دعوئی اور اسی معترض نے یعنی قومی لحاظ سے یہ ثابت کر دیا شہد کی بعض صفات یا شہد کی مکھی کی بعض صفات سے کہ ناممکن نہیں۔یہ جو دعویٰ کیا گیا کہ فِيْهِ شِفَاء لِلنَّاسِ (النحل:۷۰) یہ نامعقول نہیں ہے۔ہمارا اعلم ان حدود تک بھی نہیں پہنچا ( انتہا تک تو پہنچ ہی نہیں سکتا میرے اس مضمون کی روشنی میں) کہ جو ستر ، اسی ، سو بیماریاں سامنے آتی ہیں ان کا علاج شہد سے کیا جاسکے۔