خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 424 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 424

خطبات ناصر جلد نہم ۴۲۴ خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء یورپ میں بھی رنگی فٹ بال مقبول ہو رہا ہے۔جو ہما رافٹ بال ہے جو ہم کھیلتے ہیں اپنے ملک میں بھی اس کو Soccer ( ساکر) کہتے ہیں انگریزی میں۔وہ رنگی فٹ بال جو ہے وہ اور ہی کھیل ہے۔بڑی سخت ہے، بڑے مضبوط جسم وہ کھیل کھیل سکتے ہیں۔جو کھیلنے والے ہیں وہ اپنے جسم کو مضبوط کرتے ہیں کسی اعلیٰ مقصد کے لئے نہیں صرف کھیلنے کے قابل بنانے کے لئے۔اسلام کا یہ فلسفہ نہیں۔اسلام نے ہمیں یہ سکھایا اور سورۃ فاتحہ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چار بنیادی صفات باری کی جو تفسیر کی ہے اس میں ایک پہلو تسلسل میں ایک ایسا مضمون اپنے اندر رکھتا ہے جس میں جسمانی صحت ، ورزشیں وغیرہ شامل ہو جاتی ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رَبُّ العلمین ہے۔جو چیز بھی اس نے اس عالمین میں پیدا کی اس کی ربوبیت کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے۔ہر چیز کو مناسب حال قو تیں عطا کیں اور ہر قوت کے مناسب حال غذا یا دوسری ضروریات جو ان کی نشوونما کے لئے چاہئیں تھیں وہ مہیا کیں۔انسانوں کے لئے خاص طور پر پیدائش نوع انسانی سے پتہ نہیں کتنے کروڑ سال پہلے سے ایسی اشیاء کی پیدائش کا سامان کیا جو انسان کو کئی کروڑ سال بعد چاہیے تھا۔تو جو صفت ربوبیت ہے اس کا تعلق مخلوق کی ہر شے سے ہے۔رب کے معنی عربی میں ہیں پیدا کرنے والا اور صحیح نشوونما کے سامان پیدا کر کے کمال مقصود تک پہنچانے والا۔مثلاً ( عام مثال میں لے لیتا ہوں سب کو سمجھانے کے لئے ) ایک اچھا دنبہ چاہیے ایک صحت مند جسم کی صحت کو قائم رکھنے کے لئے۔تو دنبہ پیدا کیا اس نے اور اس کو صحت مند رکھنے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی وہ پیدا کر دی۔اس لئے کہ تمام اشیاء آخر کار انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں۔تو اسلام کہتا ہے کھیلو اس لئے کہ کھیلنے کے نتیجہ میں تمہارے اجسام کی ، تمہارے جسموں کی نشوونما اس طور پر ہو کہ تم وہ بوجھ برداشت کرسکو جو دوسری تمہاری صلاحیتوں کے نتیجہ میں تمہارے جسموں پر پڑنے والے ہیں۔پہلا بوجھ جو پڑتا ہے جسم کے اوپر ، وہ ذہنی میدان میں کوشش کے نتیجے میں۔آدمی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے اور سارا جسم جو ہے وہ کچھ عرصے کے بعد کمزوری محسوس کرتا ہے۔غذا کے متعلق