خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 420 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 420

خطبات ناصر جلد نهم ۴۲۰ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۸۲ء جنت، ایک مرنے کے بعد کی جنت۔اس زندگی میں بھی جنت جیسی کیفیات پیدا ہو جا ئیں گی تمہارے گھروں میں اور وہ ابدی زندگی جو مرنے کے بعد انسان کو حاصل ہوتی ہے وہ بھی جنتی زندگی ہوگی۔جنت سے باہر خدا تعالیٰ کے غضب کی جہنم میں رہنے والی زندگی نہیں ہوگی۔تیسرے اس بشارت والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہر بدی رسوائی ہے، بے عزتی ہے اور سب سے بڑی رسوائی وہ ہے جو حقارت کی نگاہ انسان دیکھے اپنے لئے اپنے رب کی آنکھ میں۔یہاں فرمایا اللہ اپنے نبی کو رسوا نہیں کرے گا ، نہ ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔یعنی ہمارے لئے یہ بشارت دی گئی یہاں کہ جس عزت کے مقام پر النبی کو رکھا جائے گا اس کی معیت میں ، اس کے ساتھ ہی تو بہ کرنے والے مومنوں کو رکھا جائے گا۔اور چوتھی یہاں یہ بات بتائی کہ ان کا نور ان کے آگے آگے بھی بھاگتا جائے گا اور دائیں پہلو کے ساتھ بھی۔یہاں یہ بتایا کہ جو عقیدہ اور عملاً تو بہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے اور ایسے اعمال بجالاتے ہیں جن میں کوئی ملاوٹ اور کھوٹ نہیں ہوتا ، جن میں کوئی ریا اور تکبر نہیں ہوتا ، جن میں کوئی دکھاوا نہیں ہوتا بلکہ سارے کے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کے پیار کے چشمے سے ابلتے ہوئے باہر آتے ہیں اور خدا کے نزدیک مقبول ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک نور عطا کرتا ہے۔یہ جو نور عطا کیا جاتا ہے یہ خود ایک لمبا مضمون اسلام میں بیان ہوا۔ایک پہلو اس کا یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرتے رہا کرونور فر است دیا جاتا ہے اسے۔بہر حال ایک نور مومن کو عطا ہوگا اور یہ نور جو ہے یہ محض حال کو یعنی جو آج کا وقت ہے صرف میری زندگی کے، آپ کی زندگی کے آج کو روشن کرنے والا نہیں ہوگا بلکہ آگے آگے بھاگتا جائے گا یعنی مستقبل کو بھی منور کرنے والا ہوگا اور اس نور کے نتیجے میں دائیں طرف بھی روشن ہوگی ( دایاں دین اسلام کی طرف اشارہ کرتا ہے ) یعنی صحیح میلان دین کی طرف پیدا کرے گا یعنی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا حوصلہ بھی دے گا اور عزم بھی دے گا اور توفیق بھی دے