خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 387
خطبات ناصر جلد نهم ۳۸۷ خطبه جمعه ۱۵ ؍ جنوری ۱۹۸۲ء بلکہ السَّماء الدنیا سب سے ورلا جو آسمان ہے اس میں جو کواکب ہیں اور بہت ساری جگہ اس قسم کی مخلوق ہے ہمارے جیسی آزاد، خدا کا پیار بھی حاصل کرنے والی ، اپنی غفلت اور گناہ اور خدا سے دوری کے راستوں کو اختیار کر کے اس کے قہر کا مورد بھی بننے والی ہے۔تو یہ جو وسیع کائنات ہے یہ منتشر نہیں بلکہ ایک منطقی اکائی کی طرح بندھی ہوئی ہے ایک دوسرے سے۔اس میں دو بڑی چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں تو ازن کے اصول میں بندھی ہوئی، انسان اور انسان کے علاوہ ساری کائنات، ساری ہی کائنات انسان کو فائدہ پہنچانے کے لئے انسان کے ساتھ باندھ دی گئی ہے۔سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴) کوئی چیز بغیر استثناء کے ایسی نہیں جو انسان کے فائدہ کے لئے نہ ہو۔تو اس ایک نقطے کے اوپر ساری کائنات ایک چیز بن جاتی ہے انسان کو فائدہ پہنچانے میں اور دوسری چیز انسان جسے وہ فائدہ پہنچا رہی ہے۔پھر یہ ایک منطقی ہول ہے۔میں ایک چھوٹی سی مثال لیتا ہوں۔کائنات میں بارش ہے۔انسان کھیتوں میں ہل چلاتا ہے۔کوشش ہے انسان کی دانہ اگانے کی ، وہ بارش انسانی کوشش میں بڑی برکت ڈالتی ہے، اس کو فائدہ پہنچاتی ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے انسان کی توجہ اس طرف مبذول کی کہ زمین کے پانی جو کھیتوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ آسمانی پانی جو بادلوں سے نازل ہوتا ہے وہ فائدہ پہنچاتا ہے۔ہر صاحب فراست زمیندار اس کا مشاہدہ کرتا ہے۔ہمارے سامنے کھل کے یہ باتیں بسا اوقات آئیں۔مثلاً انسان اپنی غفلت سے بیمار ہوجاتا ہے تو کائنات میں لِكُلِ دَاءٍ دَوَاءِ ہر غفلت کے نتیجہ میں جو بیماری پیدا ہوتی ہے اس کے لئے تو بہ کا دروازہ کھلا ہے۔بیماری اِذَا مَرِضْتُ انسان خود پیدا کرتا ہے اپنے لئے فَهُوَ يَشْفِينِ اور سامان علاج کا اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔تو باندھ دیا نا۔ساری کائنات کو انسان کے فائدہ کے لئے باندھ دیا اور انسان کو ساری قوتیں اور استعداد میں عطا کیں جن کے نتیجہ میں وہ اس کائنات سے، جو اتنی وسعت رکھتی ہے،استفادہ حاصل کر سکے۔اور یہ توازن کا جو اصول چل رہا ہے ہر شے میں جن کی کثرت کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ