خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 349 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 349

خطبات ناصر جلد نہم ۳۴۹ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۸۱ء کے ملک میں ہیں۔جماعت کہے گی کہ ہمیں کیوں نہیں اعتماد میں لیا۔میاں مظفر احمد صاحب کو بھی پہلے میں نے نہیں بتایا۔پھر اُن کو بتا کے جماعت کے سپرد کر دیا وہ خط۔انہوں نے اپنا جو انتظام کرنا تھا وہ کیا۔جماعت امریکہ نے (چونکہ کینیڈا جانا تھا) کینیڈین ایمبیسڈر سے بھی بات کی۔لمبا قصہ ہے جب میں ٹورنٹو میں اُترا تو جماعت نے کہا کہ آپ کا سامان بعد میں آجائے گا۔قریب ہی ایک عمارت ہے وہاں احمدی دوست مرد و زن اکٹھے ہیں آپ چلیں ایک آدمی چھوڑ جائیں وہ سامان لے آئے گا ہم وہاں اس کا انتظار کریں گے۔دو تین فرلانگ ہے وہ جگہ ہم وہاں چلے گئے مستورات علیحدہ تھیں اُن سے منصورہ بیگم نے مصافحہ کیا۔میں نے مردوں سے مصافحہ کیا۔پھر ہم کھڑے ہو گئے برآمدہ سے باہر بڑی اچھی فضا تھی۔موسم اچھا تھا۔منصورہ بیگم فارغ ہو کے میرے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔انہوں نے دیکھا ہر احمدی میری طرف متوجہ ہے۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ کوئی شخص دبے پاؤں آہستہ آہستہ قدم قدم میرے قریب آرہا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے فراست بڑی دی تھی۔دماغ نے کہا جس شخص نے خط لکھا تھا قتل کی دھمکی جس میں دی گئی تھی یہ وہ شخص ہے۔نہ جان نہ پہچان۔یہ میرا پہرہ دار بن کے کھڑی ہو گئیں میرے پیچھے اور جس وقت اور قریب آیا تو خدام الاحمدیہ میں سے کسی کو کہا کہ یہ وہ شخص ہے (انہیں بھی خط کی اطلاع تھی ) اس کا خیال رکھو۔خیر انہوں نے گھیرا کیا اُس کا۔اس سے پوچھا۔اس نے اپنا نام بتا یا کہ ہاں میں ہی ہوں وہ۔انہوں نے اپنی حکومت کو اطلاع دی پولیس کو۔پولیس نے اس کو پکڑ کے پوچھا کہ تم نے جو اطلاع دی ہے، تین قتل اور ایک اغوا کی کوشش کی اس کا مطلب ہے کہ جنہوں نے منصوبہ بنایا ہے تم بھی ان میں سے ایک ہو ورنہ تمہیں پتہ کیسے لگ گیا۔اُس نے کہا نہیں نہیں۔(اپنی طرف سے بڑا ہو شیار بنا تھا ) بات یہ نہیں ہے۔بات یہ ہے کہ مجھے علم نجوم میں بڑا شغف ہے اور ستاروں نے مجھے بتایا تھا کہ یہ واقعہ ہوگا۔انہوں نے کہا ستاروں نے بتایا تھا یا نہیں بتایا تھا پر ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ کینیڈا میں جس جگہ حضرت صاحب ہوں اگر اس جگہ سے ۴۰ میل کے اندراندر بھی تم نظر آ گئے تو تمہاری بوٹیاں ستاروں کو نظر نہیں آئیں گی۔اس واسطے چلے جاؤں یہاں سے۔اور اس کو اپنی فراست سے پہچاننے والی اور اس طرح حفاظت کرنی والی۔اس قسم کے احسان بھی ہیں