خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 348

خطبات ناصر جلد نهم ۳۴۸ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۸۱ء اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق رکھنے والی دیگر مستورات اور بچوں کو ( بہت ساری مصلحتیں تھیں ) پاکستان بھجوا دیا۔آپ وہاں ٹھہر گئے اور فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت مصلح موعود کے ساتھ حضرت آپا صدیقہ صاحبہ ٹھہریں گی۔بس ایک، خاندان میں سے۔منصورہ بیگم نے اصرار کیا کہ میں تو نہیں جاؤں گی۔میں تو ٹھہروں گی یہاں۔مجھے اگر صحیح یاد ہے تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے نہیں مانی بات، پھر حضرت صاحب سے منوائی کہ نہیں میں یہاں ٹھہر ونگی اُس وقت کے لوگ یہ سمجھے کہ شاید اپنے میاں کو ان حالات میں چھوڑ کے یہ نہیں جانا چاہتی۔لیکن ۱۳۱ اگست کو جب حالات نے مجبور کیا اس بات پر حضرت مصلح موعود کو کہ وہ چھوڑ جائیں قادیان تو اپنے میاں کو چھوڑ کے خلیفہ وقت کے ساتھ آگئیں پاکستان۔ت پھر آئے ۵۳ ء کے حالات۔ہم لاہور میں تھے۔جو ربوہ میں تھے ان کو نہیں پتہ کیا حالا تھے وہ جو لا ہور میں تھے ان کو پتہ ہے کیونکہ یہ مقامی ، لوکل فتنہ وفساد تھا۔کالج میں میری ڈیوٹی۔ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں۔ایک دن درد صاحب آگئے مجھے کہنے لگے آپ نے نہیں جانا کالج ؟ میں نے کہا کیوں نہیں جانا کہ گولیاں چل رہی ہیں۔میں نے کہا آج ہی تو دن ہے جب میں نے ضرور جانا ہے کیونکہ میرے اوپر ذمہ داری ہے اُن احمدی اور غیر احمدی بچوں کی حفاظت کی جو میرے کالج میں آج آئیں گے۔وہ وہاں آجائیں اور میں گھر میں بیٹھا رہوں یہ نہیں مجھ سے ہوگا۔اتنا اصرار تھا ان کا کہ اگر وہ یہ سمجھتے کہ وہ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں جسمانی لحاظ سے تو انہوں نے مجھے باندھ کے رکھ دینا تھا وہاں۔لیکن میں کالج چلا گیا اور منصورہ بیگم کے چہرہ پر کوئی ملال نہیں تھا گھبراہٹ نہیں تھی۔اُن حالات میں سے گذرے بشاشت سے ہم دونوں۔جماعت کی خدمت کا موقع ملا۔بڑی دلیر عورت تھیں۔اس جگہ میں ذکر کروں کہ جب میں ۷۶ء میں پہلی دفعہ امریکہ گیا تو ایک خطہ ہمیں ملا امریکن کا کہ میں آپ کو یہ بتا تا ہوں، انذار کرتا ہوں کہ آپ کی جان لینے کے لئے تین کوششیں کی جائیں گی۔اگر وہ ناکام ہو ئیں تو پھر چوتھی کوشش کی جائے گی آپ کو اغوا کرنے کے لئے۔پہلے تو میں نے یہ خط جیب میں رکھ لیا کیونکہ مجھے تو پتہ ہی نہیں ڈر کہتے کسے ہیں۔پھر مجھے خیال آیا کہ ہم ان