خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 347 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 347

خطبات ناصر جلد نهم ۳۴۷ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۸۱ء طبیعت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ میں وہ پروگرام Cancel‘ کردوں اور بچی کے پاس ٹھہروں۔میں نے ہومیو پیتھک کی ایک دوالے کے اُس کے منہ میں ڈالی اور منصورہ بیگم سے کہا کہ شفا دینا اور زندگی دینا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔میں یہاں رہوں یا نہ رہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس لئے السلام علیکم میں جارہا ہوں۔چہرے پر بالکل کوئی گھبراہٹ نہیں آئی۔اس وقت بھی وہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ہے مُسکراتے ہوئے مجھے رخصت کردیا اور خدا تعالیٰ کی یہ شان ہم دونوں نے دیکھی کہ جب میں واپس آیا تو بچی صحت یاب ہو چکی تھی۔اور کام پڑتے رہے۔الیکشن آئے ، نہ دن کی ہوش نہ رات کی ہوش۔قادیان سے ہجرت کا زمانہ آ گیا۔بڑا سخت زمانہ تھا۔آپ میں سے جو لوگ اُس دور میں سے نہیں گزرے وہ اندازہ نہیں کر سکتے کس قدر روحانی اور ذہنی اور جسمانی اذیت میں سے گزرنا پڑا۔روحانی اس لئے کہ ہمارا جو مرکز تھا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مدفون تھے ہمیں نظر آرہا تھا کہ وہ ہم سے لچھٹ جائے گا پھر باقی قتل و غارت۔ہر وہ شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتا تھا ، مظلوم تھا، اُسے قتل کیا جارہا تھا ، اُس کو شہر بدر ، گاؤں بدر، ملک بدر کرنے کا منصوبہ تھا۔اُن کے اموال لوٹے جارہے تھے، اُن کی عزتیں خراب کی جارہی تھیں ، اُن کی عزتوں کو اُن کی آنکھوں کے سامنے لوٹا جا رہا تھا۔اُس وقت سب بھول گئے تھے کہ کس فرقہ کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں۔صرف ایک بات یاد تھی کہ وہ اللہ اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور خدا کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر وہ اذیتیں دیئے بھی جار ہے ہیں اور اذیتیں برداشت بھی کر رہے ہیں۔اُن دنوں میں جب میں جیپ میں بیٹھ کے باہر نکلتا تھا اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے۔تو نہیں کہا جا سکتا تھا کہ واپسی کیسے ہوگی۔کبھی خیال بھی نہیں کیا۔زبان پہ بھی نہیں آیا، اشارہ بھی نہیں کیا کہ ان حالات میں آپ باہر کیوں جاتے ہیں بلکہ ہماری باہر تھی کوٹھی اس کو بھی سنبھالتی تھیں بچوں کو بھی سنبھالتی تھیں۔میں چیدہ چیدہ باتیں اس وقت بتاؤں گا کیونکہ اس وقت، وقت نہیں ہے پھر کبھی موقع ملا تو انشاء اللہ بتاؤں گا وہ کیا تھیں کیسی تھیں۔پھر وقت آگیا پارٹیشن ہوگئی۔۲۵ / اگست کو حضرت مصلح موعود نے حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا