خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 345
خطبات ناصر جلد نهم ۳۴۵ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۸۱ء ہمارے لئے سارے غموں کو ہوا میں اُڑانے کے لئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کافی ہے خطبه جمعه فرموده ۴ / دسمبر ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔رَضِيْنَا بِاللَّهِ رَبِّاً وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا “ ( صلی اللہ علیہ وسلم) بہت بڑے خزانے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کئے ہیں اُن میں سے ایک بہت ہی عظیم خزانہ یہ ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی ایسی قضا نازل ہو جود نیوی حالات میں تکلیف دہ ہو اُس وقت ایک ہی نعرہ زبان پر آنا چاہیے اور وہ یہ ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ جیسا کہ دوست جانتے ہیں کل شام قریباً ساڑھے آٹھ بجے منصورہ بیگم اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔میرا اُن کا ساتھ بڑا لمبا تھا۔قریباً ۴۷ سال ہم میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہے اور ۴۷ سال جہاں انہیں مجھے دیکھنے اور سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملا مجھے بھی انہیں دیکھنے، سمجھنے اور پر کھنے کا موقع ملا۔ہمارا رخصتانہ ۵ /اگست ۱۹۳۴ء کو ہوا تھا اور ۶ /اگست کو میں انہیں بیاہ کر قادیان پہنچا تھا اور ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی ۶ رستمبر ۱۹۳۴ء کو میں اپنی تعلیم کے لئے انگلستان روانہ ہو گیا۔یہ پہلی چیز تھی جس نے مجھے موقع دیا کہ میں اُن کی طبیعت کو سمجھوں۔ایک ذرہ بھر بھی انقباض نہیں پیدا ہوا