خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 339
خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۹ خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۱ء در ثمین اردو میں بہت جگہ آپ نے اس مضمون کو بیان کیا۔چند ایک اشعار میں نے منتخب کیسے وہ یہ ہیں۔وہی اس کے مقرب ہیں جو اپنا آپ کھوتے ہیں نہیں رہ اس کی عالی بارگاہ تک خود پسندوں کو پھر آپ فرماتے ہیں۔کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے وہ پسند آتی ہے اس کو خاکساری تذلل ہے ره درگاه باری عجب ناداں ہے وہ مغرور و و گمر راه کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے بے خبر ہے فارسی کلام میں بہت جگہ مختلف پیرائے میں اسے بیان کیا۔جو چند اشعار آپ نے بیان کیے، ہ مضمون لمبا شروع ہوا ہے پہلے سے جہاں سے میں نے اٹھایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے کے لئے فنا کی راہ کو اختیار کرنا پڑتا ہے یعنی جو شخص اپنی جان اس کے حضور پیش کر دے اور دنیا کی نگاہ میں زندگی کے جو لوازم ہیں وہ سب اس کے لئے چھوڑ دے اور اسی کا ہو جائے اور اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے ایک نئی جان ، ایک نئی روح ، ایک نئی زندگی اس سے پاوے تب کام بنتا ہے ورنہ نہیں۔آپ فرماتے ہیں۔دلبر و دل آرام کشته دلبر رسته یکسر ز ننگ و ز نامی