خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 334 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 334

خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۴ خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۸۱ء اسی لئے دوسری جگہ یہ بھی فرمایا تھا کہ۔قُلْ اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) کہ کامل اطاعت کرنی ہے۔نماز ہے۔دوسری قربانیاں ہیں۔زندگی کا ہر پہلو ہے۔موت کی ہر شکل ہے۔یہ اللہ رب العلمین کے لئے ہے یعنی میری ہر حرکت اور میرا ہر سکون اس لئے ہے کہ میرا تعلق ربوبیت ربُّ الْعَلَمِيْنَ کے ساتھ قائم اور پختہ رہے کیونکہ اگر وہ تعلق کٹ گیا تو پھر میں ہدایت نہیں پاسکتا اس کی طرف۔لا شَرِيكَ لَئے اس کا کوئی شریک نہیں۔توحید خالص پر میں قائم ہوں اور مجھے اسی امر کا حکم دیا گیا ہے اور میں مقدور بھر اطاعت کرتا ہوں۔یہ عملی نمونہ ہے میرا۔میرے پیچھے چلو۔کہنے والا تو ایک ہی تھا، میرے پیچھے چلو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ کے منہ سے آپ کی حقیقت خدا تعالیٰ نے یہ بیان کی إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى الی (یونس : ۱۶) جو وحی الہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری اور نوع انسانی کی بھلائی کے لئے نازل ہوئی میں صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں اور تم ؟ اِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ (ال عمران : ۳۲) اگر تمہارے دل میں اللہ کی جو رب العالمین ہے، محبت ہے اور چاہتے ہو کہ وہ بھی تم سے پیار کرے فاتبعونی میری اتباع کرو۔کس چیز میں اتباع کرو؟ وہی جو دوسری جگہ ہے اِنْ اتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى رائی میں صرف اس وحی الہی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر اللہ نے نازل کی ہے اور تم میری اتباع کرتے ہوئے صرف اس وحی کی اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کی اور اس کے علاوہ ہلاکت ہے۔انّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (یونس: ۱۶) یاد رکھو جو اس وحی کو چھوڑتا وہ اپنے لئے ہلاکت، ناکامی ، بدامنی ، خوف ، بے اطمینانی کے سامان پیدا کرتا ہے اس زندگی میں بھی اور آخری زندگی میں ، اُخروی زندگی میں بھی۔اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑا عظیم مضمون بیان کیا ہے۔زبان دی ہے خدا نے میں اب خلاصہ بیان کرنے لگا ہوں ) بولنے کے لئے۔ہر آدمی بولتا ہے۔اچھی باتیں بھی کہتا ہے بری باتیں بھی کہتا ہے امن اور اطمینان پیدا کرنے کے لئے اپنے معاشرہ میں بھی اس کی زبان کام کر رہی ہے اور فساد کرنے کے لئے بھی اس کی زبان کام کر رہی ہے۔تو خدا تعالیٰ نے ہر دو کاموں