خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 318
خطبات ناصر جلد نهم ۳۱۸ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء اور اسلام کے خلاف تدبیریں کرتے چلے آئے ہیں اور اس بات سے امن میں ہیں کہ اللہ انہیں اس ملک میں ہی ذلیل اور رسوا کر دے یا موعودہ عذاب ان پر اس راستے سے آ جائے جس کو وہ جانتے ہی نہ ہوں۔یا وہ انہیں ان کے سفروں میں ( دوسری جگہ آیا ہے۔وہ دوڑے پھرتے ہیں دنیا میں، اسلام کو نا کام اور کمزور کرنے کے لئے ) تباہ کر دے۔پس وہ یا درکھیں کہ وہ ہرگز اللہ کو ان باتوں کے پورا کرنے سے عاجز نہ پائیں گے۔( جو بشارتیں یہاں مومنوں کو دی گئی ہیں۔ان باتوں کے پورا کرنے سے عاجز نہ پائیں گے ) یا وہ انہیں پہلے کہا تھا ہلاک کر دے اللہ ) آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے کیونکہ تمہارا رب یقیناً مومنوں پر بہت ہی شفقت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ان آیات میں ان ہجرت کرنے والوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کو اختیار کرتے ہیں اور اس ہجرت کو وہ اختیار کرتے ہیں اُس وقت جب ان پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہوتی ہے۔اس وقت بھی وہ ہجرت کو اختیار کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں بشارت دی کہ لنبونَتَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً دنیا میں بھی اچھا مقام دیں گے۔دُنیوی حسنات دیں گے جس کے لئے دعا سکھائی رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرة : ٢٠٢) وَ لَاجُرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ اور آخرت کا اجر اس دنیا کے اجر کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔کاش اس حقیقت کو یہ منکر سمجھتے اور اپنی بدتر بیروں سے باز آجاتے۔ہجرت، جیسا کہ ابھی حال ہی میں ماضی قریب میں میں نے ایک خطبے میں بتایا تھا ، عربی معنی کے لحاظ سے اور قرآنی اصطلاح کی رو سے تین باتیں ، تین پہلوا اپنے اندر رکھتی ہے۔ہجرت کے لفظی معنی تو عربی میں ہیں قطع تعلق کرنا اور چھوڑ دینا اور ہجرت کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہجرتِ مکانی یعنی اپنی رہائش کی جگہ کو چھوڑنا۔بڑی زبر دست قربانی ہے اپنے عزیزوں کو چھوڑنا، اپنے دوستوں کو چھوڑنا ، اپنے تعلقات کو چھوڑنا ، اپنے اموال کو چھوڑ نا خدا اور رسول کے لئے اور اس جگہ چلے جانا یا اس زندگی کو ( جو اس وقت میرا مضمون ہے۔میں یہ فقرہ اس کے لئے زائد کر رہا ہوں ) ترک کر دینا جس زندگی کو ترک کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے موعودہ انعامات کے وہ وارث بن