خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 310 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 310

خطبات ناصر جلد نهم ۳۱۰ خطبه جمعه ۶ / نومبر ۱۹۸۱ء دیا۔ہوسکتا ہے اور دنیا میں ہزاروں ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ پندرہ منٹ کے بعد ایک شخص آیا۔اس کا پاؤں پڑا وہ پھسلا اور اُس کی لات کی ہڈی ٹوٹ گئی۔تمہیں اسلام لوگوں کی لاتوں کی ہڈیاں توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔نہ جو تھوڑا سا زخم ہے اُس کی بھی اجازت ہے۔جو گر نے سے تکلیف ہوتی ہے اس کی بھی اجازت نہیں۔اسلام نے تو کہا تھا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ۱) تمہیں تو پیدا ہی کیا گیا ہے دکھوں کو دور کر کے سکھ کے حالات پیدا کرنے کے لئے۔اس لئے جتنا حصہ اس نظام کا ہمارے پاس ہے ایک حصہ تو حکومت کا ہے نا۔اس میں تو میں دخل نہیں دیتا لیکن جو ہمارے پاس ہے جو احمدی کھو کھے دار ہیں دوسرے ہیں اُن سے کہیں کہ تمہارے جو کھو کھے ہیں۔کھوکھے کے پاس کوئی چھلکا نہیں گرا ہوا ہوگا۔معمولی بات ہے۔ایک پرانا بڑا سا ڈرم لے لو۔وہ پیسے تو تمہیں خرچ کرنے پڑیں گے اور دکاندار کا فرض ہے کہ کوئی ایسی چیز ہے اور کوئی وہاں کھا رہا ہے تو کہے اُس کو کہ چھلکازمین پر نہیں پھینکنا، اس کے اندر پھینکو۔ہزار ہا ایسی جگہیں جہاں پھٹا ہوا کاغذ یا چھلکے یا گند یاوہ ڈبہ جہاں سے کھانے کی چیز نکالتے ہیں وہ پھینکنے کے لئے ہزار ہا نہیں لکھوکھا ایسے ڈرم انگلستان کے کونے کونے میں پڑا ہوا ہے۔کاغذ کا ایک پرزہ نظر نہیں آتا۔جنگل میں جائیں گے پکنک کرنے کے لئے کھانا کھا ئیں گے۔اب انہوں نے کاغذ کی پلیٹیں بنالیں۔کاغذ کے چمچے بنالئے آسان کام کر دیا وہ۔یعنی خیال ہو تو آسانی پیدا ہوتی ہے نا۔ہر پارٹی میں بھی گیا ہوں پکنک پر جماعت کے ساتھ۔انہوں نے اس وقت تو آدمی زیادہ ہوتے ہیں کئی بڑے بڑے بورے جو ہوتے ہیں نا روئی کے اس طرح کے پلاسٹک کے تھیلے۔وہ ساتھ لے کے جاتے ہیں۔تھوڑی سی جگہ میں وہ آجاتا ہے۔اُس کو وہ پھر ساری صفائی کر کے کاغذ کے پیچھے، چھریاں، ڈبے جن میں سے انہوں نے کھانا نکالا ہے، پھل کے ڈبے، ہر چیز اس تھیلے میں ڈال دیتے ہیں۔کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی وہاں نہیں چھوڑتے اور پھر جگہ مقرر ہوتی ہے وہاں جا کر پھینک دیتے ہیں۔اُن کی دین 'Van آتی ہے تھیلے کو اٹھا کے لے جاتی ہے۔اس دنیا کو جا کے آپ تبلیغ یہ کریں گے کہ اسلام کہتا ہے کہ صفائی رکھو وہ آپ کی بات سنے گا اس سال اور دوسال کے بعد وہ زیر تبلیغ یہاں آ جائے گا۔وہ کہے گا تم تو ہمیں کچھ اور کہتے تھے اور تمہارا عمل تو