خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 307
خطبات ناصر جلد نہم ۳۰۷ خطبہ جمعہ ۶ / نومبر ۱۹۸۱ء ہم نے زیادہ توجہ دینی شروع کی اس کی طرف تب ہمیں اس کی افادیت اور اس کی عظمت کا پتہ لگا۔اب تو جماعت وسعت اختیار کر گئی اور غیر ملکوں سے بھی آتے ہیں۔دنیا کے کونے کونے سے جلسہ سالانہ کے موقع پر آ جاتے ہیں۔سارے سال تو ساری دنیا کے احمدی یہاں زندگی نہیں گزار سکتے۔سارا سال بھی آتے رہتے ہیں۔اب بھی اس مسجد میں ایک ہالینڈ سے آئے ہوئے مہمان ہیں اور بھی کوئی ہو۔ہاں ایک کینیڈا سے آئے ہوئے مہمان ہیں اور بھی شاید کوئی ہو۔تو یہ مہمانوں کو عیش ہم نے نہیں کروانی اُن کو تکلیف نہیں ہونے دینی۔اس اصول کے اوپر ہمارا لنگر خانہ چل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں تک خیال رکھا تھا کہ جن لوگوں کو پان اور زردہ کھانے کی عادت تھی اُس زمانہ میں جب قادیان چھوٹا سا گاؤں تھا اور نہ پان ملتا تھا نہ زردہ وہاں کوئی کھاتا تھا تو آدمی بھیجوا کے امرتسر یا بٹالہ جہاں بھی ملتے تھے اُن کی عادت کے لئے یہ چیز میں منگوا کے دیتے تھے۔پھر وہی لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منگوائے ہوئے پان کھائے بہت ساروں نے پان کھانا ہی چھوڑ دیا ہوگا بعد میں جب پوری تربیت ہوگئی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ خیال رکھا اور جب ذرا ایک دو موقع پرستی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نظام کے متعلق خفگی کا اظہار ہوا۔ہمارے پاس محفوظ ہیں خدا تعالیٰ کے احکام بھی کتابوں میں۔وہ تو لمبی تفصیل ہے۔اس تمہید کے بعد اور یہ بتانے کے بعد کہ لنگر اور خصوصاً جب یہ سال میں ایک بارا اپنے عروج پہ ہوتا ہے یعنی جلسہ سالانہ کا نگر۔وہ ایک ہی لنگر کی شاخ ہے۔ہر مہینے میں میرے خیال میں لنگر سے آٹھ دس ہزار کھانے تقسیم ہوتے ہیں لیکن ان چند دنوں میں کئی لاکھ کھانے تقسیم ہو جاتے ہیں۔پھر یہ چھوٹا سا قصبہ۔پھر اس قصبے سے محبت کرنے والے لاکھوں آدمی۔وہ باہر سے یہاں آجاتے ہیں۔دنیا کی نگاہ میں دنیا کے معیار کے مطابق تکلیف اٹھانے کے لئے لیکن بڑی لذت اٹھاتے ہیں۔اب تو جو Americans (امریکنز ) یہاں آنے شروع ہوئے کئی سال سے میری تحریک پر تو اُن میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ہمارے ساتھ عدم مساوات کا سلوک کیوں کیا جاتا ہے۔جب پاکستان کا مہمان چاول کی پرالی پر سوتا ہے تو ہمیں بھی پرالی دو ہمیں چار پائیاں