خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 294 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 294

خطبات ناصر جلد نهم ۲۹۴ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۱ء کرے گا اور اس رنگ میں اختیار کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی عاجزی اور فروتنی کو قبول کر لے گا تو رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ( يَا السَّابِع ) اللہ تعالی ساتویں آسمان تک اُسے اُٹھا کے لے جائے گا۔تو جماعت احمدیہ کا بحیثیت جماعت اور افراد جماعت احمدیہ کا انفرادی حیثیت میں جو بنیادی مقام ہے وہ عجز اور فروتنی اور تواضع اور انکساری کا مقام ہے اس کو نہ بھولنا۔اگر تکبر ہو، اگر ریا ہو ، اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ جاؤ، اگر غرور ہو تمہیں اپنے علم پر یا اپنے مال پر یا اپنی دولت پر یا اپنے قبیلہ پر یا اپنی طاقت پر تو مارے گئے تم ! یہ جو ہے فروتنی یہ فنا کی شکل اختیار کرتی ہے یعنی اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دینا اللہ میں فانی ہو جانا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں کھوئے جانا ، ایک موت اپنے پر وارد کرنا ایک ایسی موت جونئی زندگی عطا کرتی ہے اگر قبول ہو جائے وہ موت (اپنی جان پیش کی ہے خُدا کے حضور ) اگر خدا تعالیٰ اس قربانی کو قبول کر لے تو ایک نئی زندگی آپ کو عطا کرتا ہے جو بڑی پاک ہوتی ہے ، جو بڑی مظہر ہوتی ہے جس پر فرشتے بھی ناز کرتے ہیں ، جسے خدا قبول کرتا ہے اور جسے قبول کر کے اپنی تمام اُن بشارتوں کا وارث بنا دیتا ہے جو قرآن کریم نے مُؤْمِنُونَ حَقًّا نیچے اور کامل مومنوں کو دی ہیں۔اللہ کرے کہ جماعت کو جماعتی حیثیت میں اور افراد جماعت کو انفرادی حیثیت میں اس عجز و انکسار کے مقام کو حاصل کرنے اور پھر ہمیشہ اُس پر قائم رہنے کی توفیق ملتی رہے۔اسی بنیاد پر میں انشاء اللہ خدام ولجنہ کو کچھ کہوں گا۔غور سے سُنیں اور اپنی زندگیوں کو اُن کے مطابق ڈھالیں۔اللہ تعالیٰ توفیق دے روزنامه الفضل ربوہ ۷ /نومبر ۱۹۸۱ء صفحه ۳، ۴)