خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 16
خطبات ناصر جلد نهم ۱۶ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۱ء خدا بننے کی کوشش نہ کریں اور دعا کرنے والے ہوں بددعا ئیں کرنے والے نہ ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جب انتہائی دکھ پہنچایا گیا تو آپ کا اُسوہ دنیا کے سامنے اللہ تعالیٰ نے یہ پیش کیا کہ خدا نے کہا اگر بددعا کرو ان کے متعلق تو اسی وقت ان کو سزا دوں گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا بددعا نہیں۔تو بددعانہ کرنا اُسوہ حسنہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔بددعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ نہیں ہے۔ہر ایک کے لئے دعائیں کریں۔وہ لوگ جو خود کو آپ کا دشمن سمجھتے ہیں، ہم تو اپنے آپ کو ان کا دشمن نہیں سمجھتے وہ لوگ جو خود کو ہمارا دشمن سمجھتے ہیں ہم ان کے لئے بھی دعائیں کریں گے اور خدا تعالیٰ سے بھلائی اور نیکی ان کے لئے چاہیں گے۔اور یہ چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گے۔حالات اس طرح کے کر دے کہ وہ ان سے راضی ہو جائے اور اللہ انہیں مقبول اعمال کے بجالانے کی توفیق عطا کرے تو يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ یہ خدائی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی طاقت ہے انسان کے سپرد یہ کام نہیں کئے گئے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے کام کرنے دو، عاجزانہ راہوں سے اس تک پہنچنے کی کوشش کرو اس کے دامن کو پکڑو پیار کے ساتھ اور دعا کرو کہ شیطان کی کوئی طاقت تمہارے ہاتھ سے وہ دامن چھڑوا نہ سکے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔روز نامه الفضل ربوه ۱۲ / مارچ ۱۹۸۱ ء صفحه ۲ تا ۵ )